خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 407
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۷ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء ہمیں زندہ رہنے اور زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے خدا کی عظمت اور جلال ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۸ / ستمبر ۱۹۷۲ء بمقام سعید ہاؤس۔کاکول۔ایبٹ آباد تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَونِ وَلِأُتِمَ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ۔(البقرة : ۱۵۱) قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ أَمَنَّا بِهِ وَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا - (الملك :٣٠) اور پھر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم اس صداقت پر پہنچتے ہیں (جسے قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے) کہ اللہ تعالیٰ نے اس یو نیورس، اس عالمین کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسان اس سے خدمت لے اور اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام طاقتیں بھی بخشی ہیں جن کی بدولت وہ اس کی مخلوق سے ہر قسم کی خدمت لینے کا اہل ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ ہر چیز کی فطرت میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ وہ انسان سے اثر قبول کرے اور اس کی خدمت بجالائے۔چنانچہ تم جانوروں مثلاً کتے کوسکھاتے ہو اور اس سے اپنی خدمت لیتے ہو۔پس انسان کو دوسروں کے سکھانے اور معلم بننے کی ایک ایسی طاقت