خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 375

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷۵ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء بعد جو مسائل ہیں ان میں آج کے انسان کو اپنا وقت اس سوچ میں ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کیسے حل کئے جائیں گے؟ آج کے جو مسائل ہیں وہ پہلی صدی سے بہت مختلف ہیں۔پہلی صدی کے انسان کو حل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔کیونکہ چودہ سوسال بعد وہ مسائل پیدا ہونے تھے۔لیکن قرآن کریم میں وہ بیان بھی ہو گئے اور قرآن کریم میں وہ چھپائے بھی گئے اس کے لئے ایک نظام اور روحانی علماء کے سلسلہ کا قیام ضروری ٹھہرا۔ایک روحانی عالم خدا تعالیٰ سے علم سیکھ کر اپنے زمانے ، اپنی قوم اور اپنے ملک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے قرآن کریم کی ہدایت لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے جو علم سیکھتا ہے وہ دراصل قرآنی رموز اور اسرار کا علم ہوتا ہے جو اسے ان مسائل کے حل کرنے کے لئے دیا جاتا ہے جن کے ذریعہ قرآن کریم کی تعلیم اور نئی تفسیر کی روشنی میں نئے انسانی مسائل کا حل پیش کرتا ہے یہ کام انسانی عقل سے بالا ہے۔قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ انسانی عقل ان رموز اور اسرار کو حاصل نہیں کر سکتی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لا يَمَسُّةَ إِلا الْمُطَهَّرُونَ - (الواقعة : ٨٠) قرآن کریم کے علوم سیکھنے کے لئے عقل کافی نہیں ہے۔بلکہ قلبی طہارت کی بھی ضرورت ہے اس لئے جولوگ پاک اور مطہر نہیں ہوتے وہ قرآنی رموز اور اسرار پر آگاہی نہیں پاسکتے یوں ویسے لوگوں میں دنیوی لحاظ سے بڑی عقل نظر آتی ہے۔آخر یہ ساری ایجادات انسانی عقل کا کرشمہ ہیں۔اس کام کے لئے دلی پاکیزگی اور طہارت کی ضرورت نہیں تھی۔تاہم ان ایجادات کے نتیجہ میں وہ انسان کی خوشحالی کا سامان پیدا نہیں کر سکے۔اب مثلاً سرمایہ داری نظام ہے اس سے ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہوا۔مگر آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ ریل ایجاد ہو گئی لیکن ریل کے صحیح اور اچھے اور مفید نتائج جوخوشحالی کا باعث بنتے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوئے۔اسی طرح یہ سمندری اور پھر ہوائی جہازں کا سفر ہے اس نے انسان کو ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب تو کر دیا لیکن انسان کو ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب کر دینے کے نتیجہ میں جو مسائل پیدا ہونے تھے ان کو حل نہیں کیا۔مثلاً دوسوسال پہلے لندن