خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 373
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷۳ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء۔حفظانِ صحت پر ریسرچ کرنے والے ڈاکٹروں نے یہ بات نکالی کہ مسوڑھوں پر برش کی حرکت نیچے سے اوپر نہیں ہونی چاہیے اس سے مسوڑھے پھل جاتے ہیں اسلئے اوپر سے نیچے کی طرف حرکت ہونی چاہیے۔اس سے صفائی بھی زیادہ ہوگی۔مسوڑھے بھی صحت مند رہیں گے اور دانتوں میں خرابی کا امکان بھی پیدا نہیں ہو گا۔چنانچہ ڈاکٹر بڑے خوش تھے کہ انہوں نے کوئی نئی چیز ایجاد کی ہے۔ایک دفعہ ڈاکٹر اعجاز صاحب جو دانتوں کے بڑے اچھے ماہر ہیں ان سے باتوں باتوں میں میں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسواک کو اوپر سے نیچے کی طرف لے جاؤ۔نیچے سے اوپر کی طرف لے کر نہ جاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشا دسن کر وہ بڑے حیران بھی ہوئے اور بڑے خوش بھی ہوئے۔کہنے لگے مجھے اس کا حوالہ چاہیے۔شاید انہوں نے کوئی مضمون لکھنا ہوگا میں نے یہ حوالہ نکلوا کر انہیں بھجوا دیا تھا۔گو یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے لیکن جس وقت انسان نے اپنے دانت غلط قسم کی غذا کے نتیجہ میں زیادہ خراب کر لئے تو اس کے لئے یہ مسئلہ زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔پرانے زمانہ میں لوگوں کو مسواک کرنے کی عادت تھی اور اس سے دانت بڑے اچھے رہتے تھے۔پھر غذا کا دانتوں کی صحت کے ساتھ بڑا تعلق ہے۔مثلاً جو لوگ زیادہ میٹھا کھانے والے ہوتے ہیں۔اُن کے دانت بہت جلد خراب ہو جاتے ہیں۔اس لئے جو قومیں ہر وقت منہ میں چھینکھم رکھتی ہیں ان کے دانت اکثر خراب رہتے ہیں یا جن لوگوں کو بڑی کثرت سے چاکلیٹ کھانے کی عادت ہوتی ہے یا ہمارے ملک میں بچے ہر وقت میٹھا پھانکتے رہتے ہیں ان کے دانت خراب ہو جاتے ہیں۔غرض دانتوں کی خرابی اس رنگ میں اور اس وسعت کے ساتھ اس زمانے کی بیماری ہے۔چنانچہ ڈاکٹروں نے غور کیا۔حفظانِ صحت کے طریقے نکالے اور وہ بڑے خوش تھے کہ انہوں نے ایک مفید طریقہ نکال لیا ہے حالانکہ یہ طریقہ پہلے سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں پایا جاتا ہے۔یہ میں نے ایک چھوٹی سی مثال دی ہے۔اس سے یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اصولی طور پر قیامت تک کے جو مسائل اور الجھنیں تھیں ان کا علم