خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 372

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷۲ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء جس کی انسان کو ضرورت پڑ سکتی ہو اور قرآن کریم نے اسے بیان نہ کیا ہو۔چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے لے کر قیامت تک کی ضرورتوں کو اس کتاب عظیم نے پورا کرنا تھا اور لوگوں کی ہدایت کے سامان مہیا کرنے تھے اور ایسی تعلیم دینی تھی جو خدا تعالیٰ کی طرف انہیں لے جانے والی اور اللہ تعالیٰ سے انسان کے ذاتی تعلق کی پختگی کو قائم رکھنے والی ہو۔چنانچہ سورہ انعام کی آیت کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔تا ہم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس صدی میں مبعوث ہوئے تھے اس صدی کی انسانی ضرورتیں اُس صدی کی ضرورتوں سے مختلف تھیں جس میں انسان نے صنعتی انقلاب بپا کیا یا زراعت میں یعنی زمین سے پیداوار کے حصول میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور انسان نے اس سلسلہ میں نئے طریقے رائج کئے۔چنانچہ اس زمانے میں یعنی قرون اولیٰ میں لوگوں کو اس کا تفصیلی علم دیا جانا ضروری نہیں تھا کیونکہ اُن کی یہ ضرورت نہیں تھی لیکن جو اس وقت کی ضرورتیں تھیں اُمت مسلمہ کو ان کا تفصیلی علم دے دیا گیا تھا۔ویسے اصولی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کی ضرورتوں کا علم دیا گیا ہے۔چنانچہ جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو پڑھتے اور ان پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے کی سائنس نے جو ضرورتیں پوری کیں یا پورا کرنے کی کوشش کی ہے ان کے متعلق ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ہدایت ملتی ہے۔ایک چھوٹی سی مثال دے کر میں اس حقیقت کو واضح کروں گا۔انسان کے دانت کی صحت کی حفاظت کے لئے انسانی علم نے ماضی قریب میں بہت ترقی کی ہے جس میں ایک نکتہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ دانت صاف کرنے کے لئے انسان نے آج کل جو برش بنائے ہیں ان کو اوپر سے نیچے دانتوں پر پھیرنا چاہیے۔جہاں تک امت محمدیہ کا تعلق ہے وہ تو ان ایجادات سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تعمیل میں مسواک کرتی رہی ہے۔مسواک، برش اور ٹوتھ پیسٹ دانت صاف کرنے والی دوا ) کا مجموعہ ہے۔انسان نے برش علیحدہ بنا لیا اور ٹوتھ پیسٹ ٹیوبوں کی شکل میں علیحدہ فروخت کرنا شروع کر دیا۔بہر حال