خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 337
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۷ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء بھی ہے اور دوسری طرف وہ تلوار کی تیز دھار بھی ہے۔ایسا شخص اپنے دعوئی میں سچا نہیں ہوتا۔وہ عملاً فسادی ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔و إذا توٹی یہ وہ لوگ ہیں کہ جس وقت ان کو کسی سیاسی جماعت کی قیادت ملے۔( دراصل توٹی کے معنے صرف صدر مملکت یا بادشاہ وقت کے نہیں ہوتے بلکہ ہر چھوٹی موٹی قیادت پر توٹی کا لفظ بولا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بھی ان کو کسی قسم کے چھوٹے یا بڑے دائرہ میں قیادت مل جائے ) تو سعى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا “ کے مصداق بن جاتے ہیں۔ملک میں خوب دورے کرتے پھرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں فساد اور بدامنی پیدا ہو۔پھر فرمایا:۔66 يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ “ آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ نے اقتصادی اور معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی فرمائی ہے۔مالک اور مزدور یا صاحب اقتدار اور حزب اختلاف کے جھگڑوں کی نوعیت کو اس چھوٹے سے فقرے میں بیان کر دیا ہے۔دراصل میرے پچھلے خطبہ کی تمہید اسی فقرے کے معانی اور مفہوم کو بیان کرنے کے لئے تھی۔اس حصہ آیت یعنی يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ کے تینوں لفظ بڑے اہم ہیں۔ان کے معانی اگر ہمارے ذہن میں حاضر ہوں تو پھر اس فقرے کا مفہوم واضح ہو جائے گا۔عربی زبان میں لفظ أَهْلَكَ یا الْهَلَاكُ کے تین معنے بیان ہوئے ہیں۔یہ معنے میں نے مفردات امام راغب سے لئے ہیں۔اس لفظ کے ایک معنے انہوں نے کسی چیز کا انسان کے ہاتھ سے نکل جانا‘ کے کئے ہیں۔اگر چہ وہ چیز تلف نہیں ہوتی ، ضائع نہیں ہوتی لیکن وہ ایک انسان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔تو اس معنی میں بعض دفعہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں چیز ہلاک ہوگئی یا مثلاً یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی دولت میں سے اس قدر سونا ہلاک ہو گیا۔عربی محاورہ میں اس کے معنے ہونگے رات کو چور آیا اور سونا چرا کر لے گیا۔اگر چہ ایک انسان کے ہاتھ سے تو وہ سونا نکل گیا