خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 318
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۸ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء اسلام تلوار سے نہیں پھیلا بلکہ خدا تعالیٰ نے واضح طور پر ہمیں یہ فرمایا ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے ہاتھ میں تلوار نہیں پکڑنی کیونکہ اس کام کے لئے تمہیں اس کا اختیار ہی نہیں دیا گیا۔اس کی اشاعت کے لئے تمہیں قرآنی انوار دیئے گئے ہیں تم قرآنی انوار کے ذریعہ اسے ادیان باطلہ پر غالب کرو۔چنانچہ اس فوج نے قرآن کریم کو ہاتھ میں پکڑا اور ادیان باطلہ کو مغلوب کرنے کے لئے جارحانہ کاروائیاں کیں۔مگر یہ حملہ اس لئے نہیں تھا کہ کسی کا سرتن سے جدا کیا جائے وہ تو مادی ہتھیاروں سے ہوتا ہے یہ حملہ اس لئے تھا کہ وہ سینے جو ظلمات سے بھرے ہوئے ہیں ان کو قر آنی انوار سے منور بنادیا جائے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا اس کام کے لئے تلوار یا ایٹم بم استعمال کیا جا سکتا ہے؟ تو اس کا یہ سوال بڑا نا معقول ہو گا۔کسی شخص کے سینے کو اگر قرآنی انوار سے منور کرنا ہو تو لوہے کی تلوار یا ایٹمی ذرات کی جو طاقت ہے اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے اس کے لئے ہمیں قرآنی انوار کی ضرورت ہے۔تاہم اگر کوئی بیوقوف منکر اسلام تلوار کے ساتھ اسلام کو مغلوب کرنا چاہے تو پھر جو تمہاری طاقتیں ہیں یا مادی ذرائع ہیں اُن کو تم دفاعی طور پر استعمال کرو۔یہ طاقتیں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں زیادہ دے رکھی ہیں۔جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کو جانتا ہوگا۔اس کی فراست بھی بہت ہوگی اور دوسروں سے مختلف اس کی شجاعت بہت زیادہ اور دوسروں سے مختلف ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مٹھی بھر مسلمانوں نے ان تلواروں کو جو اُن سے ہزاروں گنا زیادہ تھیں اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے میانوں سے باہر نکلی تھیں انہیں واپس میانوں میں نہیں جانے دیا جو تلوار میان سے نکلی تھی اس نیت کے ساتھ کہ جب تک اسلام کو مغلوب نہ کرے گی واپس میان میں نہیں جائے گی۔اس کو دوبارہ میان میں جانا نصیب نہیں ہوا۔کیونکہ قبل اس کے کہ وہ اپنی میان کی طرف جاتی وہ نہتی فوج جو خدا تعالیٰ کی صفات کے علم اور معرفت کے نتیجہ میں تیار ہوئی تھی اس نے دشمن کا غرور خاک میں ملا کر رکھ دیا۔جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور اللہ تعالیٰ نے ظالم کے ہاتھ کو روکنے کی اجازت دی تو مسلمانوں کی تلواریں بھی میان سے باہر نکل آئیں۔مسلمان ظالم منکرین کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے بے چین ہو گئے۔یہاں تک کہ ان کو آرام کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ایک دفاعی جنگ کے بعد دوسری دفاعی جنگ لڑی جاتی