خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 294
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۴ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء کو نہیں پہنچا تھا۔تاہم یہ بات ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انسان اپنے ارتقائی ادوار میں جس مقام ، جس وقت ، جس زمانے اور جس ملک میں رہتا تھا اُس زمانے ، اُس ملک اور اُن حالات میں اُس کے مناسب حال جو بھی تعلیم تھی وہ اللہ تعالیٰ نے اُس قوم کی طرف اُس زمانے کے نبی کے ذریعہ نازل کی اور اس طرح انسان کی جزوی ترقی کے درجہ بدرجہ سامان پیدا کئے جاتے رہے تا کہ انسان جزوی ترقیات کے نتیجہ میں ارتقائی مدارج میں سے گذرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کے عروج کے لحاظ سے اس زمانے میں پہنچ جائے جس میں انسانِ کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہونے والی تھی۔پس قرآن کریم سے پہلے کی جس قدر بھی ہدایتیں اور شریعتیں ہیں وہ انسانوں کی حالت کے لحاظ سے اور اُن کی ضرورت کے لحاظ سے، اُن کی جزوی ترقی کے سامان پیدا کرتی چلی آرہی تھیں۔اس سے زیادہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتی تھیں۔اس نقطہ نگاہ سے انسانی تاریخ کا مطالعہ اپنی ذات میں ایک بڑا لطیف مضمون ہے۔اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ سے ہدایت پا کر اپنے اپنے زمانہ میں انسان کی جزوی ترقی اور اس کے تدریجی ارتقاء میں پوری کوشش کی۔تاہم یہ چیز بڑی نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کی شریعت میں انسان کی کلی ترقی کے سامان نہیں پائے جاتے تھے۔غرض انبیاء علیہم السلام اور آسمانی شرائع کا سلسلہ تو اپنے عروج اور کمال اور افضیلت کے لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گیا لیکن فلسفیوں کا جو سلسلہ ہے وہ کسی پر ختم ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سلسلہ کو کمال حاصل ہے نہ ہو سکتا ہے۔اس لئے جب ہم فلاسفروں اور مفکرین کے حالات کا مطالعہ کرتے اور ان کے نظریات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ان کی فکر اور تدبر کے نتیجہ میں ( گو اس میں شک نہیں اُنہوں نے بعض اچھی باتیں بھی کہی ہیں مگر مجموعی لحاظ سے ) انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ محض جزوی بھلائی اور خیر تھی۔اس میں ایک تو انسان کی کامل ترقیات کے سامان نہیں تھے۔دوسرے یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی انسان کی کوئی ایسی آزادانہ فکر اور اس کے نتیجہ میں کوئی نظریہ قرآن کریم سے بہتر ہمیں نظر نہیں آتا۔