خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 285 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 285

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۵ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء دے کر اس سے زیادہ بھی اشاعت ہو سکتی ہے مثلاً اصل سرمایہ سے آپ نے جو قرآن کریم خریدے ہیں اُن کو بیچیں، پھر منگوائیں اور اس طرح فروخت کرتے چلے جائیں۔اگر کسی دوست کو مفت دینا چاہیں تو بجائے اشاعت قرآن کے اس اجتماعی فنڈ سے دینے کے اپنے پاس سے ساری یا آدھی قیمت دے دیں۔غرض یہ سادہ قرآن کریم ہے جو بچوں کے لئے ہے۔پھر اردو ترجمہ ہے ایک حصہ انگریزی پڑھنے والوں کا ہے ان ہر سہ قسم کے قرآن کریم کی کئی لاکھ کی مانگ تو صرف پاکستان میں ہے۔ویسے جو دعاؤں کے محتاج ہماری کوششوں کے حصے ہیں ان میں سے ایک وہ ہے جو امریکہ میں کوشش ہو رہی ہے۔خدا کرے کہ وہ ہمیں قرآن کریم کا بڑا آرڈر دیں جو کم از کم ایک لاکھ کاپی کا ہو۔امریکہ تجارتی لحاظ سے بڑا منظم اور امیر ملک ہے اس واسطے امریکن دوستوں نے مجھے کہا کہ انگریزی ترجمہ قرآن کریم کی قیمت وہ نہ رکھیں جو پاکستان میں رکھی ہے ورنہ امریکن لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ چیز اتنی سستی مل رہی ہے اس لئے یہ کوئی قیمتی اور اچھی چیز نہیں ہے۔چنانچہ ایک دوست نے کہا کہ اس کی کم از کم قیمت دس ڈالر رکھیں۔( آج کل نرخ کے مطابق دس ڈالروں کے۔۱۱۰ روپے بنتے ہیں) میں نے کہا نہیں تو پھر وہ کہنے لگا پانچ ڈالر رکھ لیں۔اب مجھے یاد نہیں رہا کہ اس کی کتنی قیمت مقرر ہوئی ہے لیکن زائد قیمت کا فیصلہ ہمیں دو وجہ سے کرنا پڑا۔ایک اس لئے کہ ہم امریکہ سے کمانا چاہتے ہیں اور کمانا اس لئے نہیں کہ اس سے نفع حاصل کرنا مقصود ہے۔میں اس لئے کمانا چاہتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی تجارت بڑھا سکوں۔دوسرے اس لئے بھی قیمت بڑھانی پڑی کہ جس امریکی فرم سے ہماری خط و کتابت ہو رہی تھی ( گو وہ اتنی اچھی ثابت نہیں ہوئی تاہم ) اُس نے ہمیں کہا کہ ہم ساٹھ فی صد کمیشن لیں گے۔اس لئے آپ جو بھی قیمت رکھنا چاہتے ہیں اس میں یہ کمیشن اور امریکہ تک پہنچے کا کرایہ جمع کر دیں۔وہ آگے چالیس فیصد رعایت پر دوکانداروں کو Retail ( ری ٹیل ) پر دیتے ہیں غرض اُنہوں نے کہا کہ ہم قیمت میں اس اضافے کے ساتھ لے لیں گے اور ہم خود ہی اشتہار وغیرہ دے کر فروخت کریں گے۔دوست دعا کریں۔اگر میں اس طرح ایک لاکھ کا پی امریکہ میں بھجوا سکوں تو ایک لاکھ نسخے مفت