خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 274
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۴ خطبہ جمعہ ۷ / جولائی ۱۹۷۲ء پس یہ عظیم قرآن اس لئے نازل ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے الہام کے ذریعہ عقول ناقصہ کے اختلافات کو دور کیا جا سکے اور یہ قرآن کریم کی بے شما ر صفات میں سے ایک صفت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے مقام اور شان کو مختلف جگہوں پر بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔ہم کہہ دیتے ہیں کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔اصل میں تو اللہ تعالیٰ ہی بیان کرنے والا ہے۔جس نے قرآن کریم نازل کیا ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اپنے کلام کی شان کو بیان کیا ہے جسے عام فہم زبان میں ہم کہہ دیتے ہیں کہ قرآن کریم نے خود بیان کیا ہے یہ محاورہ بھی درست ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس محاورہ کو استعمال کیا ہے۔تاہم یہ ایک عام فہم محاورہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کی عظمت کو اپنے کلام یعنی قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔لیکن اتنی عظیم کتاب ہونے کے باوجو درسول نے فرما یا کہ میری قوم نے اس کتاب سے زبانی اور دلی طور پر قطع تعلق کر لیا ہے۔چنانچہ اب ابھی آپ اپنی زندگیوں میں دیکھیں ، ہمارے پاکستان میں بھی مسلمان کہلانے والوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بسا اوقات زبان سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ چودہ سوسالہ پرانی کتاب آج کے نئے مسائل کس طرح حل کرے گی؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے اسلام ہمارا دین ہے لیکن ہم یہ نہیں مانتے کہ قرآن کریم ہمارے مسائل کے حل کے قابل ہو۔کئی لوگ تو بڑی دلیری سے کھلے طور پر یہ کہہ دیتے ہیں اور کئی اشاروں میں یہ بات کرتے ہیں اور دل سے تو قرآن کریم کی عظمت کو بہت کم لوگ مانتے ہیں کیونکہ دل کا ایمان تو جوارح کی حرکتوں کو پکڑ لیتا ہے اور ادھر اُدھر نہیں جانے دیتا وہ یقین جو دل میں پیدا ہوتا ہے اس کے بعد عمل میں گمراہی نہیں پیدا ہوسکتی لیکن اب حالت یہ ہے کہ قرآن کریم پر ایمان بھی ہے اور اسی فیصد اعمال قرآنی ہدایت کے خلاف بھی ہیں۔یہ طریق عمل قرآن کریم کو دلی طور پر مہجور قرار دینے یعنی قطع تعلق کرنے کے مترادف ہے زبان سے قرآن کریم کی صداقت کا اقرار ہے لیکن دل سے قطع تعلق ہے۔اس کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کتاب فی الواقعہ عظیم ہے۔