خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۵ خطبه جمعه ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء پھر اللہ تعالیٰ کے اس عظیم اور نہایت پر جلال فعل کو دیکھیں کہ اس نے کس طرح ہزار ہا سال پہلے ایک منصوبہ بنایا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت ظہور کا۔جس سے آپ کی عظمت اور جلال بھی ظاہر ہوتا ہے۔انسانوں کو پتہ ہی نہیں تھا۔انبیاء علیہم السلام کو اس نور کی صرف ایک جھلک دکھائی گئی تھی یعنی علم الہی میں اس نور کا ادھر بھی اور اُدھر بھی پر تو پڑ رہا تھا۔ایک روشنی تھی جو ماضی کو بھی منور کر رہی تھی۔ایک روشنی تھی جو مستقبل کو بھی روشن کر رہی تھی اور قیامت تک پھیلی ہوئی تھی۔باوجود اس کے کہ ایک لحاظ سے آپ اس مادی دنیا کے مادی بشر تھے مگر روحانی طور پر آپ کی عظمت اور جلال کا اظہار دیکھو۔فرمایا میرا وہ محبوب آرہا ہے جو انسانیت کا نچوڑ ہوگا۔وہ میرے قریب تر ہونے والا ہے اور عملاً قریب تر رہے گا۔کیونکہ روحانی طور پر آپ کی زندگی ماضی حال اور مستقبل پر اثر انداز ہے ایک ابدی حیات۔باقی جب سے اور جب تک خدا تعالیٰ نے چاہا آپ کو زندگی عطا فرمائی۔ہم تو عاجز بندے ہیں۔ہمارا تخیل تو ان چیزوں کا احاطہ نہیں کرسکتا۔بہر حال اتنا ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ پہلے نبی کے وقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا اظہار ہونا شروع ہو گیا تھا اور علم الہی میں تو یہ ہمیشہ سے موجود تھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عظمت اور جلال کو دیکھنے کے بعد کیا تم غیر اللہ سے ڈرو گے اور تمہارے دل میں اُن کا خوف پیدا ہو گا۔تم خدا تعالیٰ سے ڈرو جس نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکات کو دنیا میں پھیلانے اور بڑھانے کے لئے حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے انسانوں کے ذریعہ اپنا کام شروع کروایا تھا اور کہا تھا کہ میرا پیارا آنے والا ہے تم اس کے لئے تیاری کرو اور پھر اس کی عظمت کو دیکھو کہ ہزار ہا سال تک ایک نبی کے بعد دوسرا نبی ، ایک قوم کے بعد دوسری قوم اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل آتی رہی لیکن اللہ تعالیٰ کی جو سکیم تھی وہ جاری رہی۔پس یہ اس کی عظمت اور جلال کا اظہار ہے۔اب خانہ کعبہ اور اس کے مقاصد کے ذکر میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد خالی از حکمت نہیں ہے کہ فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَون یعنی غیر اللہ سے نہیں ڈرنا۔صرف میرا خوف تمہارے دل میں ہونا چاہیے۔چنانچہ جیسا کہ ہم میں سے سب چھوٹے بڑے جانتے ہیں اور یہ بات اکثر ان کے کانوں