خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 89

خطبات ناصر جلد چہارم ۸۹ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء ہیں اور اُن کے پاس اتنا فارغ وقت ہے کہ وہ سمندری جہاز پر جائیں۔دس دن جانے میں اور دس دن واپس آنے پر لگیں اور اسطرح ایک مہینہ لگ جائے اس کام کے لئے جسے ۳، ۴ دنوں میں کیا جا سکتا ہے۔سوم۔ایک اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ خلافت ثالثہ نے تمام جماعتی عہدوں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد کا قبضہ دلا دیا ہے یعنی ان عہدوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کا قبضہ ہے۔اب اس وقت بڑے بڑے جماعتی ادارے مثلاً صدر انجمن احمدیہ، تحریک جدید ، وقف جدید ، فضل عمر فاؤنڈیشن اور نصرت جہاں ریز روفنڈ ہیں۔جہاں تک صدر انجمن احمدیہ کا تعلق ہے اس کے بہت سے ناظر ہیں۔( یہی بڑے بڑے عہدے ہیں نا) چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک وقت میں چار ناظر تھے جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے تھا اور آج جب کہ اس اعتراض کو پھیلا یا جا رہا ہے۔دو ناظر ایسے ہیں جن کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے ہے یعنی تعداد کم ہو گئی ہے اور شور زیادہ مچنا شروع ہو گیا ہے۔دراصل یہ خالی خلافت ثالثہ ہی پر اعتراض نہیں ہوا۔یہ اعتراض تو منافقین خلافت ثانیہ پر بھی کرتے رہے ہیں۔صدر انجمن احمدیہ کا سب سے بڑا عہدہ صدر ،صدر انجمن احمد یہ ہے اور اس وقت صدر ، صدر انجمن احمد یہ مولوی محمد دین صاحب ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے ان کی کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔صدر انجمن احمد یہ کے کام کے لحاظ سے اس وقت دو نگران ہیں۔نگران نمبر دو نظارت علیا ہے جس کا اپنا کوئی شعبہ نہیں، لیکن دوسرے شعبوں میں Coordination ( کو آرڈی نیشن ) کرانا اور ان کی عام طور نگرانی کرنا یہ اس کا کام ہے۔اس کے اوپر صدر، صدر انجمن احمد یہ بیٹھا ہے اور نیچے مستقل ذمہ داری کا کام سنبھالنے والے مختلف ناظر ہیں۔ناظر بیت المال ( ہر دو آمد و خرچ ) کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔ناظر امور عامہ کا خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔