خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 83

خطبات ناصر جلد چہارم ۸۳ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء خلافت حقہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت سے پہچانی جاتی ہے خطبه جمعه فرموده ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ بنصرہ نے یہ آیہ کریمہ پڑھی:۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ - (النساء : ۱۴۶) اور پھر فرمایا:۔ایک منافق جہنم کے شدید ترین عذاب میں اس لئے مبتلا ہوگا کہ قرآن کریم کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ فتنہ و فساد پیدا کرتا رہتا ہے اور مفسد ہونے کے باوجود مصلح کے روپ میں خدا تعالیٰ کی۔جماعتوں کے سامنے آتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ منافق کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے اُس کی ہر بات میں جھوٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک پورا اور پکا منافق اگر اپنی ماں کی صفات بھی بیان کر رہا ہو تب بھی وہ جھوٹ بول رہا ہوگا اور اگر اپنے بھائی کی خیر خواہی کی باتیں کر رہا ہو تب بھی جھوٹ بول رہا ہوگا کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جھوٹ نہیں بول سکتے۔آپ نے فرمایا ہے کہ منافق کی ہر بات میں جھوٹ کی ملونی ہوتی ہے۔ہر بات جھوٹ نہیں ہوا کرتی مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے آج فلاں وقت