خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 61 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 61

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۱ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری فطرت کے لحاظ سے مختلف دور مقرر کئے ہیں اس لئے تم ان میں سے گزر کر اور انتہائی جدوجہد کے بعد آخری منزل تک پہنچ سکتے ہو چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہی کو آپ غور سے دیکھیں تو وہاں بھی یہ نظر آئے گا کہ آپ کے دور میں بھی مسلمانوں نے آہستہ آہستہ تدریجی ترقی کی۔وہ آپ کی قوت قدسیہ اور تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں منزل بمنزل آگے بڑھتے رہے اور منزل بمنزل بلند ہوتے اور رفعتوں کو حاصل کرتے چلے گئے اور پھر اپنی آخری منزل کو اُنہوں نے پوری جدو جہد اور کوششوں اور قربانیوں کو انتہا تک پہنچا کر بنایا اور اس طرح اُن کا انجام بخیر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی یہ آواز ان کے کان میں آئی۔میرے بندے! میری جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔اس آخری عمارت یا منزل کے بعد جنت نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد جو عمارت ہے وہ تو دھڑام سے دوزخ میں جا گرتی ہے۔اس لئے اس لحاظ سے یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔غرض اس چھوٹی سی آیت میں بڑی حکمت کی بات بیان ہوئی ہے۔فرما یا کسی دور میں بھی تمہارے سپر د جو کام کیا جائے اس دور کے کام کو فرغت کے طور پر کرنا ہے یعنی اس کو تمام کرنا ہے۔اس کو کامل اور مکمل کرنا ہے اس کے تمام اجزاء کو پورا کرنا ہے۔لغت عربی کے لحاظ سے فرغت کے یہی معنے ہیں۔فرمایا۔جب کام مکمل ہو جائے تو پھر وہاں بیٹھ نہیں جانا اور یہ نہیں سمجھنا کہ بس جو کام کرنا تھا وہ کر لیا۔تم جب تک اس دنیا میں زندہ ہو تمہیں اپنی زندگی کے مختلف ادوار کی ذمہ داریوں کو نباہنا ہوگا البتہ اُس دُنیا یعنی اُخروی زندگی کی ہم بات نہیں کر سکتے۔انسان کا تصور یہی ہے کہ وہاں دنیوی قسم کا عمل نہیں ہو گا ویسے وہاں بھی عمل تو ہو گا لیکن یہ عمل امتحان کے طور پر نہیں ہوگا کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اس کا شکر ادا نہیں کرے گا؟ شکر ادا کرنا بھی تو آخر ایک عمل ہے یا کیا وہ الْحَمدُ لِلہ نہیں پڑھے گا؟ اگر چہ وہ الْحَمْدُ لِلهِ پڑھے گا تو یہ بھی ایک عمل ہے اگر چہ وہ الحمدُ للهِ اُس سے زیادہ بصیرت کے ساتھ پڑھے گا جتنا اس دنیا میں پڑھتا ہے اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو اس سے زیادہ بصیرت کے ساتھ دیکھے گا جتنا وہ اس دنیا میں دیکھ رہا ہے اس لئے اس کی حمد تو اس دنیا کی حمد سے بہتر اور احسن ہوگی۔