خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page viii
VI داخل ہو رہا تھا۔اس وقت چینی سوشلزم کا انقلاب اپنی جوانی میں داخل ہو رہا تھا اور انشاء اللہ اور اسی کے فضل سے اور جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں یہ ایک خاص سلسلہ ہے جو ایک زبردست الہی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے۔اس لئے میں علی وجہ البصیرت اور پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس وقت چینی سوشلزم کا انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل ہور ہا ہوگا اسلام کا عظیم انقلاب اپنی جوانی میں داخل ہو رہا ہوگا۔اس لئے ہماری جماعت پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔“ ۷۔یکم دسمبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ایک کام آپ کو کرنا چاہیے اور وہ آپ کر سکتے ہیں وہ پانی کو ابال کر استعمال کرنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ پانی ابال کر پئیں تو آپ ہمارے ملک کی آدھی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔میرا تو دل کرتا ہے کہ ثواب کی خاطر خود مثلاً الف محلے میں پندرہ بیس دن بلکہ مہینہ تک خدا تعالیٰ مجھے طاقت دے اور کچھ رضا کار میرے ساتھ تعاون کریں تو میں دیگوں میں پانی اُبال کر مختلف جگہوں پر رکھ دوں اور یہ ابلا ہوا پانی گھروں میں سپلائی کروں“ ۸ ۲۲ دسمبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے ایک عظیم الشان تمنا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ایک لمبا عرصہ ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پیدا کی کہ ایک ایسا بڑا ہال ہو جہاں لیکچروں کا انتظام کیا جا سکے اور جس میں ایک صد سامعین سما سکیں۔آپ نے اس زمانے کی ضرورت کے مطابق فرمایا تھا۔پھر ۱۹۴۵ء میں حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تحریک کی کہ ایک لاکھ سامعین کے بیٹھنے کے لئے انتظام کیا جائے اور آج خلیفہ اسیح الثالث تمہیں کہتا ہے کہ اس وقت ہمیں ایک ایسی جلسہ گاہ کی ضرورت ہے جس میں کم از کم دو اڑھائی لاکھ آدمی بیٹھ سکیں۔سٹیڈیم کی شکل کی کوئی ایسی جلسہ گاہ بن جانی چاہیے جو ایام جلسہ میں دو اڑھائی لاکھ مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے جلسہ گاہ اکٹھا کرنا پڑے گا بیچ میں پردے کا انتظام ہو جائے گا) کے لئے بیٹھے کا انتظام ہو جائے۔یعنی سٹیڈیم کی طرز پر بنی ہوئی سیڑھیاں اور زمین پر کم از کم دو اڑھائی لاکھ نفوس کے بیٹھنے کی گنجائش ہو۔۔۔اگلے دس سال کی ضرورتوں کو مد نظر رکھنا پڑے گا دس سال کے بعد خدا تعالیٰ جماعت کو یہ توفیق دے گا کہ اس وقت کی جماعت