خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 50

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء مسلمان تو مٹھی بھر ہیں یہ بیچ کر کیسے جائیں گے وہ سمجھتے تھے کہ ہم اڑھائی لاکھ ہیں اور مسلمان صرف چالیس ہزار اس لئے وہ مسلمانوں کو مٹادیں گے غرض اس نیت کے ساتھ رومی آئے تھے کہ اس میدان میں سارے مسلمانوں کو قتل کر دیں اور اس فتنے کو (جو اُن کے نزدیک فتنہ تھا ) ہمیشہ کے لئے مٹادیں گے مگر جسے وہ فتنہ سمجھتے تھے اور جس کے مٹانے کے درپے تھے، اس نے اُن کے خون کو کھاد بنا کر انہی کے علاقوں میں اسلام کے درختوں کو بویا۔جنہوں نے بڑے اچھے پھل دیئے کھا دہی پڑی نا! کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بکرے کا خون اگر Decomposed (ڈی کمپوزڈ ) ہو کر درختوں کی جڑوں میں ڈالا جائے تو بڑی اچھی کھا د ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ اسلام کا یہ دشمن انسانیت کے لئے اور تو کسی کام نہیں آیا مگر جب اسلام کا باغ ان علاقوں میں لگا تو اس وقت اس نے کھاد کا کام دیا۔ان کی نسل سوچتی ہوگی کہ یہ لوگ کن بلند نعروں کے ساتھ اور بظاہر کس ہمت کے ساتھ اور کس ولولے اور عزم کے ساتھ اور پادریوں کے ہر قسم کے جوش دلانے کے بعد اسلام کو مٹانے کے لئے وہاں گئے تھے مگر ناکام ہوئے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ اور اس کے پیار کے جلوے جنگ کے میدانوں میں بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔دشمنانِ اسلام تو بد بخت تھے لیکن ہمارے لئے خوش بختی کے سامان پیدا کر گئے اور ہمارے لئے خوش قسمتی کے محلوں کے دروازے کھول گئے۔تا ہم یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب مسلمانوں کا کرب، کرب عظیم بن گیا تھا۔دُکھ اور تکلیف اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا انعام نازل نہیں ہوتا ور نہ ایک کمزور ایمان والے اور ایک پختہ اور سچے ایمان والے آدمی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔بہر حال ایک مسلمان نے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائے گا چنانچہ جب تک اللہ تعالیٰ اس دعوی کی پوری طرح آزمائش نہ کرے، اس کی نصرت نازل نہیں ہوتی۔پیٹھ نہیں دکھائے گا“ کا عہد وہی آدمی کرتا ہے جس کا خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر کامل بھروسہ ہوتا ہے۔تبھی وہ کہتا ہے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں دشمن کو پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے کیونکہ وہ سچے وعدوں والا اور کامل قدرتوں والا ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ