خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 607 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 607

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۷ خطبہ جمعہ ۲۹؍دسمبر ۱۹۷۲ء ایسی ہستی کے سامنے پھیلایا جاتا ہے جس سے کوئی چیز غائب نہیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے میں نے تجھے دیا اور تو نے میری راہ میں خرچ نہیں کیا۔اب میرے سامنے ہاتھ کیوں پھیلا رہا ہے۔آگے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا مقام جو آج کے دن کا مقام ہے اسے حاصل کر۔جو کچھ میں نے تجھے دیا قوت اور طاقت اور استعداد کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا ظاہری سامانوں کے لحاظ سے اور مادی اشیاء کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا عقل اور فراست کے لحاظ سے، جو کچھ میں نے تجھے دیا قرآن عظیم جیسی ہدایت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے لحاظ سے۔یہ جو تجھے چیزیں ملیں پہلے ان سے انتہائی فائدہ اٹھا۔پھر میرے پاس آ۔میرے خزانے خالی نہیں ہیں لیکن تیری ساری قو تیں میری راہ میں خرچ ہونے کے بعد میرے سامنے تیرا دستِ سوال پھیلنا چاہیے۔پھر انسان خرچ کرنے کے بعد یعنی ” جو کچھ ہے پورے کا پورا خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دینے کے بعد خدا سے کہتا ہے کہ جہاں تو نے مجھے اتنا کچھ دیا اور مجھے یہ توفیق بھی دی کہ میں تیری راہ میں سارا کچھ خرچ کر دوں وہاں تو نے مجھے یہ جذبہ اور جوش بھی دیا کہ میں کسی مقام سے تسلی نہ پکڑوں کیونکہ تیرے قرب کے مقامات کی کوئی انتہا نہیں۔آگے بڑھنے کے لئے میرے رب مجھے اور دے۔پھر جب ايَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد مخلصانہ دعا اِيَّاكَ نَسْتَعین کی ہوتی ہے تب خدا تعالیٰ اسے اور قوت دیتا ہے اور تب خدا تعالیٰ اسے جو قوت دیتا ہے اسے لے کر وہ آگے بڑھتا ہے پھر ایک اعلیٰ مقام پر کھڑا ہوتا ہے پھر کہتا ہے اے خدا! تو نے مجھے جو طاقتیں دیں وہ تیری راہ میں خرچ ہو گئیں اب مجھے اور دے کیونکہ جو طاقتیں ملیں ان کے خرچ کرنے پر تو ایک جیسا ثواب ملتا رہے گا۔اگر مجھے مزید ثواب ملتا ہے اور ترقی کی مزید را ہیں کھلتی ہیں تو ضروری ہے کہ تو مجھے اور طاقتیں دے پھر ايَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے کہ اے خدا ! میری مدد کو آ میں یہاں کھڑا ہو گیا ہوں جو کچھ تو نے دیا تھا وہ اب استعمال کر چکا۔یہ سلسلہ چند گھنٹوں کا بھی ہے چند گھنٹے انسان خدا کی راہ میں کام کرتا ہے۔پھر ہر نماز میں کہتا ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔یعنی جو کچھ تو نے مجھے دیا میں نے وہ تیری راہ میں خرچ کر دیا۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس دو گھنٹے کے وقفہ میں مثلاً جو آج کل ظہر اور عصر کے درمیان ہوتا ہے۔