خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 590 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 590

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۰ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء لئے آج عوامی حکومت کوشش کر رہی ہے وہ آگ اپنے ماحول میں بھڑ کنے دیں۔یہ اجازت تو نہیں دی جاسکتی کہ سماج دشمن عناصر ان جگہوں پر بھی آگ لگانے کی کوشش کریں۔جہاں وہ پہلے نہیں۔جہاں خوبصورت باغ ہیں پھول ہیں۔باہر تم نے مشہور کیا کہ ربوہ میں جنت ہے۔ہے جنت۔لیکن جنت کا وہ تصور نہیں جو تمہارے دماغ میں آیا۔کوئی مصنوعی چیز نہیں نہ یہاں مصنوعی جنت ہے نہ مصنوعی جہنم ہے۔یہاں تو محبت و پیار کا ماحول ہے دل کی گہرائیوں سے جذ بہ خدمت کے فوارے نکلتے ہیں۔یہ ہے وہ جنت جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا کہ تمہاری زندگیوں میں بھی اس دنیا میں بھی وہ جنت ملا کرتی ہے یہاں تو وہ جنت ہے۔پس ساری دنیا میں اشاعت اسلام کی جو کوشش کی جارہی ہے اس کی تیزی کو قائم رکھنے کا سوال، اس میں سستی نہ پیدا ہونے کا سوال ہے۔یہ میرے اور تیرے سوال کا نہیں۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار اور خدا تعالیٰ کی توحید کا سوال ہے۔اور خدا تعالیٰ کی توحید بہر حال دنیا میں قائم ہوگی اور محمد صلے اللہ علیہ وسلم کا پیار بہر حال ہر انسان کے دل میں قائم کیا جائے گا۔اس کے لئے خواہ ہمیں اپنی گردنیں کٹوانی پڑیں یا اپنی ساری مال و دولت کو قربان کرنا پڑے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ اور عقل عطا کرے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق دے اور ہمیں وہ جنت عطا کرے جس کے متعلق اُس نے دنیا میں بھی وعدہ کیا اور جس کے متعلق یہ بھی کہا کہ اتنی حسین اور اتنی قیمتی اور اتنی اعلیٰ ہے وہ جنت کہ زمین و آسمان کی جو قیمت ہے وہ اس کی سمجھ لو۔کیونکہ اس سے زیادہ تو انسانوں کے ذہن میں نہیں آتا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہی ہمیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔اور ہمارے ملک کو بھی۔روزنامه الفضل ربوہ ۷ اگست ۱۹۷۳ء صفحه ۲ تا ۷)