خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 583
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۸۳ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء کی ضرورت نہیں۔پھر ہمیں ۶ اکتوبر کی چلی ہوئی بیرونِ پاکستان سے یہ اطلاع آئی کہ بڑے منصوبے بن رہے ہیں اور ان میں یہ بھی منصوبہ ہے کہ چونکہ جماعت احمدیہ کے افراد بھی عوام ہیں اور ان کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی سے ہیں۔اس لئے ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کا ایک بہت بڑا منصو بہ پاکستان سے باہر بنایا گیا ہے پھر نومبر میں پاکستان کے ایک ذریعہ سے پتہ چلا کہ بعض غیر ملکی جماعت احمدیہ میں غیر معمولی مفسدانہ دلچسپی لے رہے ہیں۔اس طرح پہلی خبر کی تصدیق ہوگئی میں نے بتایا ہے کہ ہم تو ایک کمزور سی جماعت ہیں۔ہمارے ذرائع بڑے محدود ہیں ہمیں یہ خبریں ملیں مگر حکومت کے زیادہ ذرائع ہیں اسے زیادہ صحیح اور زیادہ خبریں ملتی ہوں گی اور یہ نتیجہ میں پنجاب کے گورنر غلام مصطفی کھر کی پچھلے سات آٹھ دن کی تقاریر سے نکالتا ہوں کیونکہ ان کو حالات کی زیادہ خبر ہے آج تو انہوں نے بہت زیادہ سخت بیان دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تم نے منصوبہ بنایا ہے پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے پاکستان میں خون بہانے کا لیکن اگر خون ایک دفعہ بہنا شروع ہو گیا یعنی تم نے پہل کر دی تو پھر اس وقت تک خون بہتا رہے گا جب تک تمہارا سارا خون نہ نکل جائے۔آئندہ کیا حالات رونما ہوتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔لیکن کیا ضرورت سمجھی حکومت نے اس قسم کی تنبیہ کی۔وہ آج کے بیان سے ظاہر ہے۔ہمیں اپنے ذرائع سے پہلے سے علم تھا کہ ہمارے خلاف منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور میں انتظار کر رہا تھا ، میں دعائیں کر رہا تھا۔بعض دوستوں کو میں نے بعض باتیں بتا ئیں اور بعض کو دوسری باتیں بتا ئیں میں نے کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر لحظہ ہر آن ہر لحاظ سے اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔اگر ہم نے خدا کے حضور صحیح قربانیاں دیں تو ہم اس کی مدد اور نصرت کو معجزانہ طور پر آسمان سے نازل ہوتے دیکھیں گے۔جہاں تک احمدیت کو تباہ کرنے کا سوال ہے۔وہ تو ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔جس جماعت کو خدا نے تمام بنی نوع انسان کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اس جماعت کو انسانوں کا ایک چھوٹا سانا سمجھ گروہ تباہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ تو بھی ہوہی نہیں سکتا مگر اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا تعلق ہے وہ نہ کبھی ٹوٹنا چاہیے۔نہ کمزور ہونا چاہیے۔دنیا جو مرضی کرتی ہے ہمیں اس کی