خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 579
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۹ خطبه جمعه ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء انتہائی کوشش کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دیئے۔سورہ آل عمران میں فرمایا :۔وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءَ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ - ا کہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت ہے کہ مختلف قو میں جو آپس میں برسر پر کار تھیں ان میں سے ایک ایک کو لیا اور ان کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا۔اسلام لانے سے پہلے ان کا آپس کا باہمی تعلق دشمنی اور عداوت کا تعلق تھا اور پھر اسلام لانے کے بعد کا انہی کا آپس کا باہمی تعلق الفت اور اخوت کا تعلق بن گیا۔أَلَّفَ کے معنے بڑے حسین ہیں اور وہ ہمارے سامنے رہنے چاہئیں۔مفردات میں آیا ہے الْمُؤَلِّفُ مَاجُمِعَ مِنْ أَجْزَاءٍ مُخْتَلِفَةٍ وَرُتِبَ تَرْتِيبًا قُدِّمَ فِيْهِ مَاحَقُهُ أَنْ يُقَدِّمَ وَأَخْرَفِيْهِ مَاحَقُهُ أَنْ يُؤَخِّرَ - مؤلف کے معنی انہوں نے بیان کئے ہیں ( یعنی جن کی تالیف کی گئی ) یعنی جو امت محمدیہ ہے ہمارے اس مضمون کے لحاظ سے۔کیونکہ فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا ہے۔یہ سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار ہی نہیں بلکہ اپنے اجزاء کی ایک حسین نسبتیں رکھنے والی دیوار ہے۔یہ نہیں کہ پٹھان جس طرح دیوار بناتے ہیں۔مٹی کا لوتھڑا ڈالا ( جسے پنجابی میں تھو پا کہتے ہیں ) اور دیوار کھڑی کر دی۔بلکہ جس چیز کی جہاں ضرورت ہے وہ وہاں لگائی گئی ہو۔کیونکہ مؤلّف (مؤلف) یہاں آ جائے گا مسلمان کے معنوں میں یا مؤلفہ اُمت محمدیہ ) جوا جزاء مختلفہ کو جمع کر کے اور ان کو ایسی ترتیب دے کر جسے مقدم رکھنا چاہیے اسے مؤخر رکھا گیا ہو اور جسے مؤخر ہونا چاہیے اسے مقدم رکھا گیا ہو۔ان کو جمع کر کے یکجان کر دیا گیا ہے اس معنی میں ایک واضح اصول کی طرف اشارہ ملتا ہے یعنی مسابقت کی جو ہدایت ہمیں دی گئی ہے فرما یا جذبہ مسابقت میں قُدِّمَ فِيْهِ مَا حَقُهُ أَنْ يُقَدِّمَ وَأُخِرَفِيْهِ مَاحَقُهُ أَنْ يُؤَخَرَ کا خیال ہمیں رکھنا پڑے گا۔ورنہ اسلام کی تعلیم اور ہدایت کے مطابق مسابقت نہیں ہوگی۔پس اسلام نے الفت و اخوت اسلامی کو ایک بنیادی چیز قرار دیا ہے۔کوئی ایسا کام ایک