خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 557

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۷ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء محلے والے ہمت کریں تو ہم جلسہ سالانہ سے پہلے پہلے دو جگہ پمپ لگا سکتے ہیں یہ کوئی ایسی مشکل بات نہیں پھر فروری میں انشاء اللہ وہاں درخت بڑی کثرت سے لگا کر اس کی شکل بدل دیں گے۔سر دست جہاں تک ابلے ہوئے پانی کا تعلق ہے یہ تو کسی تنظیم کا کام نہیں ہے یہ تو ہر فرد کا کام ہے۔میں آپ سے کہتا ہوں کہ اے میرے بھائی یا بہن تو پانی ابال کر پی۔اس شکل میں جس میں پانی ہوتا ہے یا اس شکل میں جس طرح میں پیتا ہوں یعنی سبز چائے کی دو چار پتیاں بیچ میں ڈال دیں جس سے پانی کا مزہ بدل جاتا ہے۔پس جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے وہ سبز چائے کے ساتھ ایک دو الا بچھی بھی ڈال سکتے ہیں۔لیکن اصل چیز ابلا ہوا پانی ہے۔بالکل ہلکی سی پتی ڈال دینے سے ہلکا سا انگوری یا موتیا سا رنگ آجاتا ہے ( سبز پتی کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں ) بحر حال ہلکا سا شیڈ آجانا چاہیے اور اس سے پانی کا بک بکا پن دور ہو جاتا ہے۔بعض لوگوں کو اس میں شاید کسیلا پن لگے۔کوئی بات نہیں دُنیا بُری عادتیں پیدا کر لیتی ہے۔تو آپ نیک عادتیں کیوں پیدا نہ کریں ہر بھلائی کی عادت نیک عادت ہے۔خواہ وہ آپ کی جسمانی صحت کو قائم رکھنے کے لئے ہو یا اس کی اخلاقی اور روحانی قوتوں کو قائم رکھنے کے لئے ہو بہر حال اس عادت کو پیدا کریں اور اس طرح ابلا ہوا پانی پینے سے ربوہ کی بہت ساری بیماریاں دور ہو جائیں گی مثلاً گردے کی بعض بیماریوں کے کیڑے ربوہ کے پانی میں پائے جاتے ہیں یہ تو پانی کے ٹیسٹ میں پائے گئے ہیں۔بعض کیڑے ایسے ہیں جو جگر کے اوپر حملہ کرتے ہیں یعنی بالواسطہ جگر کو متاثر کرتے ہیں۔بہر حال معدہ اور انتڑیاں ٹھیک ہوں کھانا ہضم ہو رہا ہو اور آپ ورزش کر رہے ہوں تو آپ کی صحت ٹھیک رہے گی۔بہر حال صحت اچھی ہونی چاہیے کیونکہ ذمہ داری بڑی ہے اور آپ کو مشغول بھی رکھنا چاہیے تا کہ شیطان کسی دروازے سے آپ کے خیالات کو پراگندہ نہ کرے۔اس کے متعلق بعد میں انشاء اللہ کسی وقت باتیں ہونگی۔اس وقت تو الف محلہ اور دار العلوم محلے زیادہ توجہ طلب ہیں کیونکہ یہیں زیادہ تر ایسے مریض تھے جن کا علاج نہیں ہو سکا۔اگر دوسرے محلوں میں ہیں تو ان کا بھی پتہ لگنا چاہیے۔ان دونوں محلوں میں پانی کا انتظام درست نہیں ہے۔پانی کا انتظام درست ہونا چاہیے اگر یہ کام جلد