خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 528
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۸ خطبه جمعه ۲۴ / نومبر ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں ان بیماریوں سے محفوظ رکھے۔انفلوئنزا کا پہلا بڑا حملہ جو انسان کے علم میں آیا وہ ۱۹۱۸ء کا فلو تھا۔اس میں مجھے یاد ہے قادیان میں ایک وقت میں آدھے شاید اس سے بھی زیادہ یعنی ستر اسی فیصد دوست انفلوئنزا کی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ پر بھی اس کا بڑا سخت حملہ ہوا تھا۔حالت بڑی پریشان کن اور تشویشناک تھی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو صحت عطا فرمائی۔اس کے بعد دو چار بار فلوو بائی شکل میں مختلف ملکوں میں حملہ آور ہوتا رہا ہے۔مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ہر دفعہ انفلوئنزا کے وائرس یعنی کیڑے مختلف شکل کے ہوتے تھے جن پر پہلی دوائیوں کا اثر بھی نہیں ہوتا تھا مثلاً انسان نے اپنے تجربہ سے ۱۹۱۸ ء میں جو دوائیاں ایجاد کیں ان کا اثر بعد کے وبائی فلو کے اوپر نہیں ہوا۔لندن میں ایک ہومیو پیتھک فرم ہے جس نے ۱۹۱۸ ء اور اس کے بعد کے مختلف وبائی فلو کے جو کیڑے ہوتے رہے ہیں ان کوئی بی کے کیڑوں کے ساتھ اکٹھا کر کے ہو میو پیتھی کی شکل میں علاج تیار کیا ہے۔یہ دوا احتیاطی تدبیر کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے تاکہ فلو نہ ہو۔میں نے بھی یہ دوا منگوائی تھی اور بہت سے دوستوں کو پچھلے سال استعمال کروائی تھی۔اکثر دوستوں کو اس سے بڑا فائدہ بھی ہوا۔گو یہ دوا بڑی اچھی ہے لیکن اس دفعہ میں نے یہ دوا استعمال نہیں کرائی کیونکہ ہم نہیں کہہ سکتے اگر کوئی نیا وائرس یعنی کیڑا ہے تو اس پر وہ اثر بھی کرتی ہے یا نہیں۔بہر حال بیماری خواہ کسی بھی شکل میں ہو۔وبائی شکل میں ہو یا روز مرہ کی ان بیماریوں کی طرح ہو جو عام طور پر کسی نہ کسی کو ہوتی ہی رہتی ہے۔اصل شافی تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔قرآن کریم میں آتا ہے اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء :۸۱) یعنی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ ( اللہ ) مجھے شفا دیتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیماری انسان کی غلطی اور گناہ کا نتیجہ ہوتی ہے کیونکہ کھانے پینے اور رہنے سہنے کے طریق اسلام نے بتا دیئے ہیں کہ کس طرح اپنے جسم کی حفاظت کرنی ہے اور کھانے کو ہضم کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنا چاہیے وغیرہ چنانچہ اس دنیا میں صحت مند رہنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے جو احکام بیان فرمائے ہیں جب انسان انکی پرواہ نہیں کرتا تو وہ بیمار ہو جاتا ہے پھر چونکہ بیماری خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے اس لئے