خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 491 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 491

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۱ خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۷۲ء اور مجاہدہ کے مطابق انہیں حاصل اور روحانی حسن کو دوبالا کر سکے گا۔غرض رمضان میں اور پھر ہر جمعہ کے دن روحانی بھوک کی سیری کا انتظام کیا گیا ہے۔ایک چیلنج جو مجھے اور آپ کو رمضان اور رمضان کا یہ آخری جمعہ دیتا ہے وہ اس دفعہ اکٹھا ہو گیا ہے۔ہم ہر سال یکم نومبر سے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اب اس جمعہ نے ہمیں یہ چیلنج دیا کہ پچھلے سال سے آگے بڑھ کر دکھاؤ یعنی یہ جمعتہ المبارک ہمیں یہ کہہ کر جا رہا ہے کہ میں اگلے سال آؤں گا اور دیکھوں گا کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے برکتوں اور نعمتوں کے جو سامان پہلے سے زیادہ مہیا کئے تھے ان میں سے تم نے کتنا حصہ پایا۔اس چیلنج پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے پورا اترنے کی توقع کے ساتھ میں آج تحریک جدید کے ۳۹ ویں اور ۲۹ ویں اور ۸ ویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔تحریک جدید کے تین دفتر ہیں۔یکم نومبر سے دفتر اول کا ۳۹ واں، دفتر دوم کا ۲۹ واں اور دفتر سوم کا ۸ واں سال شروع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔چارسال ہوئے میں نے اُس وقت کے حالات کے مطابق اور گزشتہ سالوں میں تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا جائزہ لے کر جماعت کے سامنے ایک ٹارگٹ رکھا تھا اور وہ یہ تھا کہ اندرونِ پاکستان تحریک جدید کا چندہ سات لاکھ نوے ہزار روپے تک پہنچ جانا چاہیے ویسے تو تحریک جدید کا مجموعی بجٹ یعنی تحریک جدید کی ساری دنیا کی آمد جب اکٹھی کی جائے تو وہ کم و بیش پچاس لاکھ روپے بنتی ہے۔جس میں آپ کا یعنی پاکستان کی جماعتوں کا چندہ اس وقت بہت کم ہے اس لئے میں نے یہ تحریک کی تھی کہ تحریک جدید کا چندہ سات لاکھ نوے ہزار روپے تک پہنچ جانا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو سکا تاہم اس کی چند وجوہ ہیں۔گزشتہ چار سال میں ملک میں جو حالات گزرے ہیں جب ان کا جائزہ لیتا ہوں تو میں اپنے دل کو حمد کے جذبات سے معمور پاتا ہوں آپ کے خلاف میرے دل میں غصہ نہیں پیدا ہوتا۔تحریک جدید کے دفتر اول کے چونتیسویں سال یعنی ۶۸۔۱۹۶۷ء میں دفتر دوم اور سوم کو بھی ملا کر اندرونِ پاکستان تحریک جدید کا چندہ پانچ لاکھ پچاس ہزار روپے تھا۔اور اس سے اگلے سال یعنی ۶۹ - ۱۹۶۸ء میں چھ لاکھ تیس ہزار تک پہنچ گیا یعنی اتنی ہزار روپے کا اضافہ ہوا