خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 487
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۷ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء کے لئے فضل کے سامان پیدا کئے۔بہت سی عبادتیں اکٹھی کر دی گئیں۔ماحول کو بدل دیا گیا۔دوست جانتے ہیں کہ ماہ رمضان کا ماحول دوسرے گیارہ مہینوں کے ماحول سے بڑا مختلف ہوتا ہے۔مثلاً لاہور کے بعض معتکفین بھی اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں دوسرے دنوں میں شاید دو دو مہینوں کے بعد اور وہ بھی ایک آدھ دن کے لئے ربوہ آتے ہیں لیکن ماہ رمضان انہیں یہاں کھینچ لا یا اور اب وہ کئی دن سے ربوہ میں مقیم ہیں۔پس رمضان کی وجہ سے ماحول بدل جاتا ہے اس مہینے میں قبولیتِ دعا کے مواقع بکثرت میسر آتے ہیں۔اب جس جمعہ کو ہم جمعہ کے لحاظ سے رمضان کو الوداع کہتے ہیں وہ جمعہ ہمیں یہ چیلنج کرتا ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کی حیثیت سے میں جا رہا ہوں۔آئندہ سال میں پھر اسی حیثیت سے تمہارے پاس آؤں گا اور دیکھوں گا کہ پہلے سے بڑھ کر برکات کے حصول کے لئے تم نے کیا کوشش کی ہے اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ گیارہ مہینے چوری کرتے رہوڈا کے ڈالتے رہو قتل کرتے رہو۔لڑکیوں کو اٹھواتے رہو۔تجارت میں دھوکہ بازی کرتے رہو، لوگوں کے مال دباتے اور ان کے حقوق کو پامال کرتے رہو اور پھر رمضان کی عبادتیں کرو یا بعض کے نزدیک وہ بھی نہ کرو۔پس جمعتہ الوداع میں آ جاؤ اور سارے گناہ معاف کر والو۔یہ تو خدا تعالیٰ سے تمسخر اور مذہب کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔اسلام نے تو ہمیں یہ نہیں سکھایا اسلام نے تو ہمیں یہ کہا ہے کہ مجاہدہ کرو ، جہاد کرو، کوشش کر و محنت کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ ، اپنی قوت کار کردگی کو بذریعہ احسان بڑھاؤ اور اپنے اندر زیادہ محنت کرنے کی اہلیت اور طاقت پیدا کرو۔یہ وہ سبق ہے جو آخری جمعہ ہمیں دیتا ہے۔اور یہ وہ محنت کا تصور ہے جس کے نتیجہ میں انسان احسان فی العمل کے ذریعہ اپنے اندر اہلیت اور قوت پیدا کرتا ہے۔احسان فی العمل کے متعلق میں ایک گذشتہ خطبہ میں میں مختصر بیان کر چکا ہوں جو الفضل میں شائع بھی ہو چکا ہے۔غرض تمثیلی زبان میں رمضان کا آخری جمعہ ہم سے یہ کہتا ہے کہ دیکھو میں پھر اگلے سال آؤں گا اور دیکھوں گا کہ تم روحانی لحاظ سے کتنے کامیاب ہوئے ہو۔رمضان قبولیتِ دعا کا مہینہ اور پھر جمعہ قبولیت دعا کی ساعت اپنے اندر سمیٹے ہوئے آتا ہے جو ہمارے لئے روحانی ترقیوں کا اور برکتوں کے حصول کے سامان پیدا کرتا ہے لیکن برکتیں حاصل کرنا ہمارا کام ہے البتہ