خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 482
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۲ خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۷۲ء رمضان میں مستورات کی حاضری بھی نسبتاً زیادہ ہے لیکن عام جمعہ کے دنوں میں بھی ان کے لئے جگہ تھوڑی ہوتی ہے۔اس لئے آئندہ سے ہماری بہنوں کے بیٹھنے کے لئے صحن میں شامیانے کے نیچے بھی قنات لگا کر جگہ مخصوص ہونی چاہیے تا کہ مستورات کو تکلیف نہ ہو۔بہر حال ہم اپنی حد بست کے اندر رہتے ہوئے اپنے منصوبے بناتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جس کی حد بست نہیں کی جاسکتی۔وہ اپنی قدرتوں اور رحمتوں کے نتیجہ میں اس سے بہت زیادہ دے دیتا ہے جس کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔اس لئے شکر کرنے اور الحمد للہ پڑھنے کا مقام ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - آج کا یہ جمعہ اس سال کے رمضان کے مہینے کا آخری جمعہ ہے اور اس آخری جمعہ کے متعلق جہاں بہت سی بدعات امت مسلمہ میں پیدا ہو گئی ہیں وہاں بہت سے لوگوں نے اس سے نہایت اچھے اسباق بھی سیکھتے ہیں۔جہاں تک ہماری جماعت کا تعلق ہے ہم میں سے ہر ایک دوست کو ہر وقت چوکس رہنا چاہیے کہ اس قسم کی کوئی بدعت کسی چور دروازے سے جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہونے پائے۔ابھی جب میں یہاں پہنچا تو ربوہ کے ایک فوٹوگرافر صاحب کھڑے تھے۔میں نے پوچھا آپ یہاں کیسے آگئے ہیں۔کہنے لگے آپ کی تصویریں لینی ہیں۔میں نے کہا رمضان کے پہلے ہفتوں میں میں نے آپ کو یہاں نہیں دیکھا۔میں سمجھتا ہوں اُن کے دماغ میں یہ خیال آیا کہ وہ اس موقع پر تصویریں کھینچیں گے اور بعد میں جو لوگ نئے نئے احمدی ہوتے ہیں اور پرانے خیالات لے کر آتے ہیں یا کئی بچے ہیں جو بڑے ہوتے ہیں یا بعض بچے ہیں جن کو ابھی شعور نہیں آیا ہوتا اُن کو کہیں گے دیکھو! یہ جمعتہ الوداع کی تصویر ہے۔اس لئے میں نے اُن کو تصویر میں اُتارنے سے روک دیا۔گو ہے تو یہ ایک چھوٹی سی بات لیکن اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے اندرسوئی کے ناکے جتنا رخنہ بھی پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ بدعات کا ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔دوستوں کو یا د رکھنا چاہیے کہ ہم خدا تعالیٰ کی ایک چیدہ جماعت ہیں۔ہمیں اس قسم کی بدعات سے اجتناب کرتے ہوئے سادگی اور عاجزی کے ساتھ اپنی زندگی