خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 479
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۹ خطبه جمعه ۷۲۰ اکتوبر ۱۹۷۲ء کرتے کہ تمہاری پیدائش کے وقت تمہیں جسمانی قوی دیئے گئے۔انہوں نے زبانِ حال سے دعا کی اور اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں ان کی نشوو نما کے لئے ہم نے ہر ضروری چیز پیدا کر دی۔ہم نے انسان کو روحانی قومی دیئے۔روحانی قومی کی نشوونما کے لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی۔چنانچہ ہم نے ہر قوم اور ہر ملک یہاں تک کہ بعض زمانوں میں ہر شہر میں انبیاء بھیج کر لوگوں کی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے روحانی ہدایت کے سامان پیدا کر دیئے کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے مقصد سے پیار کرتا ہے۔اس نے اس دُنیا میں انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ اس کا عبد بنے تو گویا اس کا ئنات کی پیدائش کا مقصد یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا عبد اور اس کی صفات کا ملہ حسنہ کا مظہر بنے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد سے بے توجہی نہیں برتی۔اس نے چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھا۔اتنی چھوٹی چھوٹی چیزیں کہ انسان خود ان کو نظر انداز کر دیتا ہے مگر ہمارے پیار کرنے والے رب نے ان کو بھی نظر انداز نہیں فرمایا۔غرض تخلیق کا ئنات میں اللہ تعالیٰ کا یہی مقصد ہے جس کے پیش نظر اُس نے انسان کو دنیا میں پیدا کیا۔اس کی قوتوں کی کمال نشو و نما کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے۔آسمان سے ہدایت نازل فرمائی۔زبانِ حال کی دعائیں قبول ہوئیں اور اس رنگ میں پوری ہوئیں کہ انسانی زندگی کے ہر زمانے اور ہر مرحلہ پر یہ بات واضح اور عیاں ہوگئی کہ یہ قرآن کریم ہی جو انسان کو دینی اور ڈ نیوی ہر دو اعتبار سے صحیح اور حقیقی راہ عمل دکھاتا ہے۔غرض یہ کہ جب انسان کو روحانی قوی بھی مل گئے اور ایک کامل آسمانی ہدایت بھی مل گئی تو اُسے اپنی زبان سے یہ دعا بھی کرنی پڑے گی کہ اے خدا ہمیں صراط مستقیم بھی عطا فرما اور اس پر چلنے کی توفیق بھی بخش ہمیں اپنی صفات کا عرفان بھی عطا فرما اور ہمارے لئے الہی صفات کا مظہر بننے کے سامان بھی پیدا کر۔ایسی دعا اور التجا ایک ایسی ہستی ہی سے کی جاسکتی ہے جس کے متعلق یہ یقین ہو کہ وہ قریب اور مجیب الدعوات ہے۔چنانچہ یہ بزرگ و برتر ہستی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جس نے قرآن کریم میں فرمایا :۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ