خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 467
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶۷ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء سے یہ کہتا ہے کہ جو کرنا ہے کر لو۔جس تدبیر پر عمل کرنا چاہتے ہوکر لو جو منصو بہ بنانا چاہتے ہو بناؤ و اور اس پر عمل کر کے دیکھ لو لیکن جس طرح پہلے اور نسبتاً چھوٹے انقلابات کو تمہاری تدابیر نا کام نہیں کر سکیں اسی طرح اس سے زیادہ بڑھ کر یہ امکان ہے کہ اس انقلاب عظیم کو تمہاری کوئی تدبیر خواہ وہ بین الاقوامی تدبیر ہی کیوں نہ ہونا کام نہیں کر سکے گی۔پس جہاں ہمارے کانوں میں غیر ممالک سے یہ اطلاعات پہنچتی ہیں کہ دنیا کے بہت سے ملک یا دنیا کی بہت سی جماعتیں یا دنیا کے بہت سے مفادات اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف منصوبہ بنارہے ہیں اور یہ تیاری کر رہے ہیں کہ جماعت اپنی اس مہم میں نا کام ہو جائے وہاں خدا کرے کہ ہمارے کانوں میں ساری دنیا کے احمدیوں کی طرف سے یہ آواز بھی پہنچے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی حفاظت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موعود الدین اور غلبہ کو قریب لانے کے لئے جن قربانیوں کی بھی ضرورت پڑے گی وہ ہم دیتے چلے جائیں گے تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضلوں کا زیادہ سے زیادہ وارث بنائے۔خدا کرے کہ یہ حقیقت ہماری زندگیوں میں ہماری آنکھوں کے سامنے بھی اور ان ظلمات کے بادشاہوں کی آنکھوں کے سامنے بھی آجائے کہ فیا يكَذِبُكَ بَعْدُ بِالدِينِ آخری غلبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدر میں ہے اور ناکامیاں تمہارے حصہ میں ہیں تم کامیاب نہیں ہو سکتے وہی کامیاب ہو گا جس کو کامیاب کرنے کے لئے آدم علیہ السلام سے لے کر مختلف انقلابات کا ایک سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔پس دعاؤں کے ساتھ اعمال صالحہ کے ساتھ ، ایمان پر پختگی کے ساتھ شیطان کے وساوس سے بچ کر اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے اس آخری غلبہ کے دن کو قریب سے قریب تر لانے کے لئے کوشش کرتے رہو خدا تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور وہ دن جلد آ جائے۔آمین (روز نامه الفضل ربوه ۳۱ / جولائی ۱۹۷۳ ء صفحہ ۳ تا ۶)