خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 430
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۰ خطبہ جمعہ ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ء کو جو نسل قربانیاں دینے اور ایثار دکھانے کے لئے عطا فرمائی تھی۔ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔چند ایک باقی ہیں۔اس کے بعد دوسری نسل پیدا ہوئی۔اس میں سے بھی بہت سے وفات پاگئے۔اللہ تعالیٰ نے بہتوں کو یہ توفیق دی اور دے رکھی ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی عاجزانہ کوششوں اور عاجزانہ دعاؤں کو پیش کرتے رہیں۔ہمارے بھائی ابوبکر ایوب صاحب بھی انہی میں سے ایک تھے جو مَنْ قَضَى نَحْبَةُ (الاحزاب: ۲۴) کے مصداق بن گئے۔بہت سے زندہ ہیں جو قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ہماری دعا ہے بعد کی نسل، اس کے بعد کی نسل اور پھر اس کے بعد کی نسل اور حقیقت تو یہ ہے کہ ہماری خواہش اور کوشش بھی یہی ہونی چاہیے کہ قیامت تک کی ہر احمدی نسل خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والی اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی ہو۔اللہ تعالیٰ بعد میں آنے والے مربیوں کو بعد میں آنے والی نسلوں کی تربیت کی توفیق عطا فرمائے۔تاہم جو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، ہمیں اس ذمہ داری کو کما حقہ پوری توجہ اور دعاؤں اور کوشش کے ساتھ نباہنا چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ہمارے بھائی ابوبکر ایوب صاحب بڑے مخلص احمدی تھے۔خدا کرے کہ جماعت کو اسی قسم کے مخلص دل اور روشن دماغ اور پوری توجہ اور انہماک سے قربانیاں دینے والے سینکڑوں ہزاروں مخلصین ملتے رہیں تا کہ کام کے اندر سہولت اور کام کے اندر وسعت اور کام میں تیزی پیدا ہو اور جلد ہی نتیجہ نکلنے کے امکانات پیدا ہو جائیں۔خدا کرے کہ دنیا کے تمام اندھیروں کے باوجود اللہ تعالیٰ جماعت کو ہمیشہ اپنے نور سے منور ہی رکھے اور اپنی رحمتوں سے نوازتا ہی رہے۔اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے ہماری انگلی پکڑ کر ہمیں اس جہت کی طرف ہدایت دیتا چلا جائے جس جہت کی طرف وہ ہمیں لے جانا چاہتا ہے اور جس مقصود تک وہ ہمیں پہنچانا چاہتا ہے اس مقصود تک وہ اپنے فضل سے اپنی رہنمائی میں ہمیں پہنچا دے۔وہ ہماری زندگیوں کو کامیاب اور خوشحال اور ہر طرح سے قابل اطمینان بنادے۔پس ۳، ۴ قسم کی دعائیں ۲، ۳ قسم کے تربیت کے کام اور کچھ قربانیوں اور صدقات کی