خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 424
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۲۴ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء ہماری جماعت دوسرں کی روحانی مُردنی کو دور کرنے کے لئے معرض وجود میں آئی ہے دُنیا میں کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا اور دُنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو ہمیں بحیثیت جماعت مٹا سکے۔خوف کی کوئی بات نہیں ہے۔ہم خدا کے عاجز بندے ہیں اور اسے اپنا دوست رکھتے ہیں۔یہ تو شیطان کے دوست ہیں جن کے دل میں شیطانی وساوس کے نتیجہ میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے ہم خدائے رحمان کے عاجز بندے ہیں۔ہم نے اس کا دامن پکڑا ہے پس جب اس کی عظمت اور جلال ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے تو شیطان کی کیا مجال ہے کہ وہ ہم پر کوئی وار کرے۔اگر ہم اللہ تعالی کی پناہ میں ہیں تو شیطان کے تیر ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔اسی طرح جب ہم پر کامیابی کا وقت آئے تو اس وقت تکبر بالکل نہیں کرنا۔خدا کے دامن کو ہرگز نہیں چھوڑنا۔پس چاہیے کہ تم عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو۔تا رحمان خدا تم سے پیار کرے۔اگر تم نے یہ سمجھا کہ ہم کچھ بن گئے۔ہماری طاقت بڑھ گئی۔ملک میں ہمارا بھی کوئی اثر ورسوخ پیدا ہو گیا تو تم مارے گئے۔تم نے اسی دن اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کر لئے لیکن اگر ہم بحیثیت جماعت اللہ کے دامن کو عسر اور میسر ہر دو حالتوں میں پکڑے رکھیں۔نہ ایک وقت میں بز دلی کمزوری اور ستی دکھا ئیں نہ دوسرے وقت تکبر اور انانیت کا مظاہرہ کریں بلکہ ہر دو حالتوں میں کامل اطمینان اور کامل تقویٰ اور کامل تو کل اور کامل تذلیل اور کامل انکسار کا مظاہرہ کریں تو پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی رحمت سے ہم سے بھی جو کام لینا چاہتا ہے وہ اپنے وقت پر لے گا۔یہ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں جو ایک نہ ایک دن ضرور پورے ہوں گے۔اگر خدانخواستہ ہم اپنی ذمہ داریاں نہیں نبا ہیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک اور قوم پیدا کرے گا جو ان ذمہ داریوں کو پورا کرے گی اور اسلام کو شاہراہ غلبہ پر آگے سے آگے لے جائے گی۔خدا کرے کہ یہ سعادت ہمارے نصیب ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقل و سمجھ عطا کرے اور ہمیں غلبہ اسلام کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے کی بیش از پیش توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو پختہ کرے۔خدائے رحمان سے ہمارا تعلق اتنا مضبوط ہو جائے کہ دُنیا کی کوئی طاقت اُسے قطع نہ کر سکے۔اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کو