خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 417
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۷ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء پہلے پیدا کی گئیں۔ہر آدمی کے عمل کا ایک وقت ہے۔بنی نوع انسان کی پیدائش کے بعد عمل کے وقت سے غیر معین زمانہ پہلے سے وہ نعمتیں عطا کی گئیں اور ان کی تدریجی نشو ونما کا سلسلہ اس دُنیا میں جاری ہے مثلاً بعض ایسے ستارے ہیں جن کی روشنی زمین پر پچھلے سو سال میں پہنچی ہے۔اس سے پہلے نہیں تھی۔یا چودہ سو سال پہلے نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آگئی۔کثرت شہب میں شاید اسی طرف اشارہ ہو۔دوسرے ستاروں کی روشنیاں بھی کثرت سے زمین پر پڑ رہی ہیں۔غرض سورج چاند اور ستاروں کی روشنی زمین پر پڑتی ہے اور زمین کی خدمت کی طاقت کو زیادہ کر دیتی ہے اسی طرح انسان کی بھی تدریجی ترقی جاری ہے۔وہ جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی ترقی کرتا چلا جارہا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ اس کی غذا میں بھی ایک تدریجی ارتقاء کا اصول کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم اس اللہ پر ایمان لائے ہو جو رحمان ہے اور اگر رحمان خدا پر تم نے تو کل نہیں کرنا تو پھر کیا اس پر توکل کرنا ہے جس کے اندر خدائے رحمان والی کوئی ایک طاقت بھی نہیں ہے۔یعنی جب کوئی شخص عمل کرتا ہے تو اس کی صحیح اور مناسب اور پوری جزا د ینے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔نہ شیطان اور نہ اس کے چیلے اور یہی آجکل کے سارے فسادات کی جڑ ہے یعنی جو حقدار ہے اُسے اس کا حق نہیں مل رہا۔بہر حال یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جس کے بعض حصے میں پہلے کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی حسین تعلیم دی ہے۔ہم احمدیوں کو بھی یہ تعلیم بھولنی نہیں چاہیے۔ہمارے دل میں سوائے اللہ کے کسی اور کی خشیت نہیں پیدا ہونی چاہیے کیونکہ ہم تو اللہ کے دوست ہیں۔یہ تو شیطان کے دوست ہیں جن کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔شیطان خود سرکش اور اپنے دوستوں کو خدا سے دور لے جانے والا ہے۔جو شخص خدا سے دور لے جانے والے کا دوست ہوگا اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔اگر کسی کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوگی تو ہم اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوں گے کہ شیطان کے ساتھ اس نے دوستی لگالی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کسی کے دل میں غیر اللہ کی خشیت پیدا ہوتی