خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 401

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۰۱ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء سخت ظالم ہو لیکن جس وقت اسلام کا سوال ہو تو اس وقت یہودی اور عیسائی ایک ہو جاتے اس وقت یہودی، عیسائی اور آریہ ایک ہو جاتے ہیں۔دوسرے سب مذاہب والے ایک ہو جاتے ہیں۔جس وقت اسلام کا سوال ہو تو مذہب اور فلسفہ ایک ہو جاتے ہیں یعنی ایک فلسفی بڑے آرام سے اسلام پر وار کر دیتا ہے مگر دوسرے مذاہب پر وار کرنے کی متحدہ جرأت نہیں کرتا۔گو اس کی دلیل غلط ہوتی ہے یہ ہم مانتے ہیں۔یہ رجحان اب آہستہ آہستہ دُور ہو رہا ہے مذہبی دلائل کے میدان میں ہم نے اُن کو لاجواب کر دیا ہے۔یہ جنگ ابھی شدت سے جاری ہے۔اور ان کو حلقہ بگوش اسلام کرنا ابھی رہتا ہے۔لیکن ہمیں اس کی فتح کے آثار نظر آرہے ہیں تاہم یہ جنگ مزید ۲۰، ۲۵ سال تک جاری رہے گی۔اسلام کے خلاف دوسری بڑی طاقت لامذہبیت یعنی دہریت کی تھی جسے اشتراکیت بھی کہتے ہیں یہ لوگ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر لامذہبیت کے نام پر انسانی معاشرہ کو خوشحال بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں ہمارے نزدیک اسلامی ہدایت اور قرآنی شریعت کو چھوڑ کر انسانی معاشرہ نہ حقیقی طور پر خوش حال بن سکتا ہے اور نہ با اخلاق اور باخدا بن سکتا ہے۔یہاں تک کہ دُنیوی لذتوں کا جتنا احساس ایک مسلمان کو ہے اتنا ان کو نہیں ہے۔ہم اس وقت ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ جس طرح نشاۃ اولیٰ میں اسلامی ترقی کے چوتھے دور میں پہلے تو کسرئی اور بعد میں قیصر کے ساتھ مقابلہ تھا۔اسی طرح ہمارا بھی پہلے مذاہب کے ساتھ اور اب لامذہبیت یعنی دہریت کے ساتھ مقابلہ ہے۔اس کے لئے ہمیں دو ہتھیار ملے ہیں ایک دلائل کا ہتھیار اور دوسرا آسمانی نشانات یعنی معجزات کا ہتھیار چنانچہ اس دور کے پہلے حصہ میں ہم دلائل پر زور دیتے رہے ہیں۔کیونکہ جن لوگوں کے ساتھ پہلے ہما را مقابلہ تھا وہ مذہب کو ماننے والے تھے اس واسطے ہم انہیں اسلام کا قائل کرنے کیلئے عقلی اور نقلی دلائل قاطعہ دیا کرتے تھے جن کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔دلائل کے علاوہ انہیں آسمانی نشانات سے بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اس میں ہم قریباً قریباً کامیاب ہو چکے ہیں۔اب ہم اس دور کے دوسرے حصہ میں داخل ہو رہے ہیں اس میں ہمیں آسمانی نشانات پر زیادہ زور دینا پڑے گا اور ساتھ ساتھ دلائل بھی دینے پڑیں گے ہمارے پاس یہ دونوں ہتھیار