خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 393
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۳ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء قوم کے نزدیک وہ انتہائی تجربہ کار جرنیل تھے جو مختلف محاذوں پر بڑی زبر دست اور کامیاب جنگیں لڑ چکے تھے۔ان میں سے ہر جرنیل تازہ دم فوج کے ساتھ چودہ ہزار مسلمانوں کے مقابلے پر آتے تھے۔چنانچہ ہر دفعہ ساٹھ سے اسی ہزار تازہ دم فوج نئے جرنیلوں کی قیادت میں مقابلے پر آتی اور ہر دفعہ ہزیمت اٹھاتی رہی۔پس اُس وقت جب ان دونوں قوموں سے مسلمانوں کی لڑائی ہو رہی تھی کون احمق تھا جو یہ سوچ سکتا تھا کہ دنیوی اور ظاہری سامانوں کے ساتھ مسلمان اُن پر غالب آئیں گے اُن کے کانوں میں تو بڑی پیاری یہ آواز پڑتی تھی ایک خدا پر ایمان رکھنے اور الہی سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آواز آتی تھی۔فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ تم دشمن کی طاقت نہ دیکھو کیونکہ جب دشمن کی طاقت دیکھ کر اپنی طاقت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہو تو آدمی یہی فیصلہ کرے گا کہ لڑنا نہیں چاہیے۔مداہنت اختیار کرنی چاہیے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔فاصبر ایمان کی راہ میں ، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتے چلے جاؤ اور یاد رکھو اِنَّ وَعْدَ الله حق دشمن جتنا بھی طاقتور ہو ، ہوتا رہے تم مغلوب نہیں ہو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ اسلام غالب آئے گا۔چنانچہ ان چار ادوار میں سے گزر کر مسلمان ایک ایسی طاقت بن گئے جن کے مقابلے میں کسری اور قیصر کی عظیم سلطنتیں پاش پاش ہو گئیں۔حتی کہ دشمن اسلام بھی اس بات کا قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکا کہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہوا۔کوئی وعدہ پہلے دور میں پورا ہوا، کوئی دوسرے دور میں پورا ہوا۔فتح مکہ کے موقع پر وہی رؤسائے مکہ جو اسلام کو مٹا دینا چاہتے تھے اسی دلیل سے وہ مسلمان ہو گئے۔اُنہوں نے سوچا کہ اگر خدا تعالیٰ کا ہاتھ مسلمانوں کے سر پر نہ ہوتا تو انہیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔پس فتح مکہ کا دن جو کفار کے لئے ان کے زعم میں نحوست کا دن تھا وہ مسلمانوں کے لئے بڑی برکتوں اور خوشیوں کا دن تھا کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا ہو گیا تھا۔یہ مختصر سا خاکہ ہے اسلام کی نشاۃ اولی یعنی اس کے پہلے دور کا جس میں اسلام اس وقت کی معروف دُنیا پر غالب آیا لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اسلام کے دو