خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 386

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۶ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء سے بہرہ ور بھی ہو رہے تھے۔لیکن مکہ کے بہت کم لوگوں کو پتہ تھا کہ کون اس نئے دین کو ، اس ع دین کو اور اس حسین دین کو قبول کر چکا ہے۔غرض یہ بھی ایک دور تھا جس میں سے مسلمان گزرے۔پھر اسلامی تاریخ نے ایک اور موڑ کا ٹا۔چنانچہ کی زندگی ہی میں ایک اور دور ہمیں نظر آتا ہے۔اس دور میں مسلمانوں کی تعداد گو پہلے سے کچھ بڑھ گئی تھی لیکن ظلم بھی پہلے سے بہت بڑھ گیا تھا۔جن قربانیوں کے دینے کے لئے مسلمان پہلے دور میں تیار کئے گئے تھے، اب اس دور میں اُن کی فدائیت اور قربانیاں اور بھی عظمت اور شان دکھانے لگیں۔کفار مکہ یہ سمجھتے تھے کہ چند مسلمان ہیں تھوڑے سے وقت کے لئے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔بہت جلد یہ کھیل ختم ہو جائے گا اس لئے وہ مسلمانوں سے تمسخر کرنے اور انہیں استہزاء کا نشانہ بناتے تھے۔تا ہم اس دوسرے دور میں کفار نے یہ سمجھا کہ اس مہم کا زمانہ اس قدر مختصر نہیں جتنا وہ سمجھتے تھے مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ قوت مل گئی ہے۔ان میں پہلے سے زیادہ دلیری پیدا ہو گئی ہے۔یہ لوگ پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ اسلام کے احکام اور فرائض کو بجالانے لگے ہیں۔بہت سے اثر ورسوخ رکھنے والے لوگ بھی ان میں شامل ہو رہے ہیں لیکن پھر بھی کفار مکہ یہ سمجھتے تھے کہ تلوار سے قتل کرنے سے ورے ورے جو ظلم روا رکھا جاسکتا ہے وہ روا رکھا جائے اس کے نتیجہ میں اسلام مٹ جائے گا۔اس وقت اگر کفار مسلمانوں کو قتل کرنے لگ جاتے تو صحابہ چند سو سے زیادہ نہیں تھے۔وہ زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ، دوسو کی تعداد میں تھے۔اُن وحشیوں کے لئے ان تھوڑے سے مسلمانوں کو قتل کر دینا کوئی مشکل کام نہیں تھا چنانچہ کفار مکہ نے مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا مگر اللہ تعالیٰ ایک طرف اس مختصر مگر عظیم گروہ کی حفاظت بھی کر رہا تھا اور دوسری طرف اُن سے انتہائی قربانیاں بھی لے رہا تھا گو کفار مکہ کا ظلم بڑھ گیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو قتل نہیں کر سکیں گے۔اس کے ورے ورے وہ جتنا چاہیں ظلم کریں مگر یہ میرے محبوب بندے ہیں۔مجھ سے محبت کرتے ہیں۔یہ کفار کے ظلم کے نتیجہ میں صراط مستقیم کو نہیں چھوڑیں گے۔ارتداد کو اختیار نہیں کریں گے۔