خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۷ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء میں خرچ کر دے۔یعنی انسان اپنی ساری طاقتیں خدا کی راہ میں خرچ کر دے۔غرض خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول میں انسان جب اپنی طاقتوں کو انتہائی طور پر خرچ کر دیتا ہے تو پھر اسلامی تعلیم کے مطابق حقیقی معنوں میں وہ مجاہد کہلاتا ہے۔پس جو ترقی کرنے والی قومیں ہیں اور مسلمان ہیں ان کو تو میں کہوں گا کہ قرآن کریم نے آپ کو ایک حکم دیا ہے۔قرآن کریم نے آپ کو ایک راہ دکھا دی ہے۔قرآن کریم نے آپ کو جلد از جلد رفعتوں تک پہنچنے کا ایک راستہ بتا دیا ہے اس لئے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اپنی طاقتوں کو خرچ کرو۔تا ہم جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قرآن کریم نے خالی یہ نہیں فرمایا کہ محنت کرو بلکہ فرمایا ہے کہ اپنی محنت کو انتہا تک پہنچاؤ۔اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچاؤ کیونکہ اس طرح تمہاری طاقتوں اور استعدادوں میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔قرآن کریم کی ہدایت پر عمل کرو گے اور صفات باری کی معرفت میں روز بروز ترقی کرتے چلے جاؤ گے تو تمہارے علم میں ترقی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں تمہارے عمل میں روزانہ ترقی کا امکان اور روزانہ ترقی کے سامان پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔جب مزید ترقی کرنے کے سامان پیدا ہو گئے تو اس صورت میں بھی خدا تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ جہاد کرو یعنی آج جو نئی طاقت پیدا ہوئی ہے اس کو بھی اپنی کل کی طاقت میں شامل کرو پھر اور آگے بڑھو۔پھر اور زیادہ محنت کرو اور زیادہ محنت کرو یہاں تک کہ تم اپنی محنت کو انتہا تک پہنچا دو۔قرآن کریم نے ہمیں یہ نہیں فرمایا کہ جو طاقت تم میں نہیں ہے اس کے مطابق کام کر ولیکن قرآن کریم ہمیں یہ ضرور کہتا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے جتنی طاقت دی ہے اس کے مطابق سو فیصد کام کرو اور یہ کام تین محاذوں پر ہونا چاہیے مثلاً اگر انسان جہادا کبر میں کا میاب ہو جائے تو اس نے اپنے نفس کو جو فائدہ پہنچایا سو پہنچایا اس کے نتیجہ میں ظاہر ہے ایک عظیم اسلامی فوج بھی تیار ہو گئی جو قرآنی انوار کے ساتھ جہاد کبیر کرے گی۔اور یہ جارحانہ جہاد ہے۔لوگ کہتے ہیں اسلام تلوار سے پھیلا۔میں کہتا ہوں کہ قرآن کریم نے اسلام کو تلوار کے ذریعہ پھیلانے کا کہیں حکم نہیں دیا یعنی میں صرف یہ نہیں کہتا کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلائیں یہ بھی کہتا ہوں کہ خالی یہ ہی نہیں کہ