خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 297

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۷ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب وہ کسی سے بدلہ لیتا ہے تو وہ اپنی خواہش نفس کے طور پر نہیں لے رہا ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق لے رہا ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کسی وقت بھی معاف نہ کرتا۔بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق لوگوں کی ایک مخصوص صلاحیت کی پرورش اور اس کی نشو نما کے لئے بدلہ لینے کی تعلیم دی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق ایک دوسری صلاحیت کی پرورش اور نشوونما کے لئے صرف معاف کر دینے کی تعلیم پر زور دیا۔اسی طرح برصغیر پاک و ہند کی پرانی تاریخ کو لے لیں۔برصغیر میں جو انبیاء آئے ہیں اُن میں سے ایک حضرت گوتم بدھ ہیں دھیمی طبیعت والے اور دوسری طرف وہ ہیں جو اگر وید کی آواز کان میں پڑ جائے تو سیسہ پگھلا کر کانوں میں ڈالنے والے ہیں۔یہ ہدایتیں اپنے زمانہ میں انسان کی اصلاح کرنے کے لئے آئی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بگڑ کر بھیانک شکلیں اختیار کر گئیں۔لیکن جس طرح پھول بگڑتا ہے تو وہ گا جر نہیں بنا کرتا اور جب گا جر بگڑتی ہے تو وہ گلاب کے پھول کی شکل اختیار نہیں کرتی اسی طرح ان کی بگڑی ہوئی شکل بگڑے ہوئے ہونے کے باوجود اپنی اصلی ہیئت کذائی کی طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہے اور نہ حضرت گوتم بدھ کی تعلیم جو ہے وہ بگڑ کر سیسہ پگھلا کر ڈالنے والی بن جاتی۔حضرت گوتم بدھ نے نرمی پر زور دیا تھا وہ نرمی کی طرف بگڑی دوسری طرف سختی پر زور دیا گیا تھا وہ جب بگڑی تو سختی کی طرف بگڑی۔بہر حال انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ انسان کی صلاحیتوں کی جزوی نشوونما کے سامان پیدا کئے گئے مثلاً ایک بلند مینار ہے اس کے اوپر چڑھنے کیلئے سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں ہر سیڑھی کو اگر ہم ایک زمانہ سمجھ لیں تو انسان گویا اُس زمانے میں خدا تعالیٰ کے نبی کی انگلی پکڑ کر ایک سیڑھی چڑھ گیا۔پھر ایک اور نبی آیا اُس نے انسان کو اگلی سیڑھی چڑھا دی اور اس طرح اُس بلند مینار پر چڑھنے کے لئے جزوی طور پر مدد کی گئی لیکن اس مینار کے اوپر تک پہنچنے کے سامان نہیں پیدا کئے گئے۔جہاں تک فلسفے کا تعلق ہے میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس سلسلہ میں انسانی فکر و تدبر کے