خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 286
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۶ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء افریقہ میں دے سکتا ہوں ہم اس کے نفع سے مزید قرآن کریم شائع کر کے افریقہ میں مفت تقسیم کریں گے کیونکہ افریقہ اس کا مستحق ہے۔بعض دفعہ مجھے اُن پر بڑا رشک آتا ہے، اُن میں سے آٹھویں، دسویں، گیارہویں، بارہویں میں پڑھنے والے بچے کیا اور نو جوان کیا سبھی کے دل میں قرآن کریم اور عربی زبان سے بڑی محبت ہے وہ مجھے یہاں خط لکھتے رہتے ہیں کہ آپ ہمیں قرآن کریم با ترجمہ بھیج دیں یہ اُن کے اسی جذبہ کا اظہار ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اگر یہاں جماعت احمدیہ کے مبلغ انچارج کو کہا ( وہ سارے احمدی نہیں ہوتے۔اکثر ان میں وہ ہوتے ہیں جو احمدی نہیں ہوتے ) تو یہ دیر کر دے گا یا ستی کر دے گا۔اس واسطے ہم براہ راست کیوں نہ لکھ دیں۔پھر میں ان کے خطوط اپنے مبلغین کو بھجوا دیتا ہوں کہ ان کے لئے قرآن کریم کا انتظام کر غرض اگر ہم پھر پڑھے لکھے افریقن کے ہاتھ میں اپنے انگریزی ترجمہ والا قرآن کریم دے دیں تو اس افریقن کے پاس جا کر کوئی مولوی صاحب یہ نہیں کہیں گے کہ احمدیوں کا قرآن اور ہوتا ہے اور ہمارا قرآن اور۔کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں گے تو وہ اپنی جیب سے نکال کر دکھا دیں گے کہ بتائیں کہاں اختلاف ہے؟ اسی طرح میں یہ چاہتا ہوں اور میرے چاہنے سے مراد میری یہ خواہش ہے۔باقی خواہشات کو پورا کرنا یا کب پورا کرنا یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ہمارا کام صرف نیک خواہش پیدا کر کے اس کے پورا ہونے کے لئے دُعائیں کرنا ہے۔یہ میری اور آپ کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے جہاں تک ہماری طاقت ہے کوشش کرنا ہے۔ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے ہر گھر میں ( ہر فرد کے لئے میں نہیں کہہ رہا ) ہمارا چھپا ہوا قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پہنچ جائے۔یہ کام وقت لے گا۔یہ کام پیسے چاہتا ہے اس لئے سر دست ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ پاکستان کے ہر گاؤں میں ہمارا ایک قرآن کریم سادہ اور ایک اردو ترجمہ والا ضرور پہنچ جائے۔مجھے صحیح یاد نہیں رہا کہ پاکستان میں کل کتنے گاؤں ہیں۔جب بی۔ڈی کے کام ہوا کرتے تھے اس وقت میں نے تعداد نکالی تھی۔اب یاد نہیں رہی۔کہیں سے پتہ لگ جائے گا۔اس کام کے لئے بھی محنت کرنی