خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 270 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 270

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء غرض جو شخص اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق رکھتا ہے وہ کہتا ہے کہ خدا ہے۔مگر جس کا خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق نہیں ہوتا بلکہ عقلی دلائل سے وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہستی باری تعالیٰ کو ماننا چاہیے وہ کہتا ہے کہ خدا ہونا چاہیے۔کیونکہ اس کے بغیر بہت سی باتیں Explain (ایکس پلین ) نہیں کی جاسکتیں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ عقل ہمیں ” خدا ہے تک نہیں پہنچاتی بلکہ ”خدا ہونا چاہیے‘ تک پہنچاتی ہے۔تاہم جہاں تک خدا ہے“ کا تعلق ہے یہ تو خدا تعالیٰ اپنے عاجز بندے کو رحمت کے ہاتھ سے اُٹھاتا اور اُس کے ساتھ اپنے زندہ تعلق کو قائم کرتا ہے۔پھر وہ بندہ کہتا ہے کہ ” خدا ہے کیونکہ میں اس کا گواہ ہوں۔میرا مشاہدہ ہے کہ خدا ہے۔میں نے اس سے غیب کی خبر میں معلوم کیں۔اُس نے گھبراہٹ کے اوقات میں مجھے پیار سے تسلیاں دیں۔اُس نے میری دُعاؤں کو سنا اور بسا اوقات اُس نے قبولیتِ دعا کی قبل از وقت اطلاع دے دی وغیرہ وغیرہ۔زندہ تعلق کے 66 بہت سے مظاہرے ہوتے ہیں۔پھر وہ کہے گا کہ ” خدا ہے۔میں اس کا گواہ ہوں۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے۔میں نے ۱۹۶۷ ء میں یورپ کے دورے کے دوران سوال کرنے والی ایک عیسائی عورت سے کہا تھا کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں ایک احمدی عورت کی ایک رات کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اُسے تین خبریں دیں۔میں نے اُس سے کہا کہ تم ساری عیسائی دُنیا میں اس قسم کی کوئی مثال یا اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں دکھا سکتے۔پھر میں نے اُس سے کہا کہ یہ عورت جسے ایک رات میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں بتا ئیں اور وہ پوری بھی ہوگئیں۔اب اگر اس کے سامنے ساری دُنیا کے فلاسفر ا کٹھے ہو کر اللہ تعالیٰ کے وجود کے خلاف دلائل دیں تو وہ کہے گی تم پاگل ہو۔جس قادر مطلق ہستی کی صفات کا میں نے اپنے وجود میں مشاہدہ کیا ہے میں اُس کا انکار کیسے کرسکتی ہوں۔بہر حال جو بات میں اس وقت بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ انسانی عقول کا اختلاف و تضاد انسانی عقول کے نقص کی بڑی زبردست دلیل ہے۔کیونکہ اگر انسانی عقول ناقص اور کمزور نہ ہوتیں تو مسائل کے بارے میں ان کا آپس میں اختلاف نہ ہوتا۔چنانچہ آج کی دنیا نے اقتصادی