خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 269
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۹ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء چنانچہ اب انسان نے ایک نئی سائنس نکالی ہے جسے انگریزی میں ”سائنس آف چانس“ کہتے ہیں۔پہلے تو دہریے کہتے تھے یہ بھی اتفاق ہے اور وہ بھی اتفاق ہے۔ہزار بار بلکہ اس سے بھی زیادہ اتفاق ! اتفاق !! کہتے چلے جاتے تھے۔مگر پھر انہوں نے سوچا کہ آنکھیں بند کر کے اتفاق، اتفاق کہہ دینا، درست نہیں ہے۔بالآخر انہوں نے اس کائنات اور اس کی اشیاء کی پیدائش اور ارتقاء پر فکر و تدبر کے نتیجہ میں جب سائنس آف چانس“ بنائی تو آدھے سائنسدان اس نتیجہ پر پہنچے کہ خدا پر ایمان لانا پڑے گا۔ہر چیز کو اتفاق کہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔میں ایک دو دفعہ اس کی تفصیل بیان کر چکا ہوں۔اس وقت اس کو دُہرانا نہیں چاہتا۔بہر حال ”سائنس آف چانس“ کے نتیجہ میں آدھے سائنسدان اس گروہ سے تعلق رکھنے لگے جنہوں نے یہ کہا کہ ایک قادر مطلق ، خالق اور رب ماننا پڑے گا۔جبکہ دوسرے گروہ نے کہا کہ نہیں ! خدا کے ماننے کی پھر بھی کوئی ضرورت نہیں۔وو جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سائنسدان صرف ”چاہیے تک پہنچتے ہیں کہ خدا ہونا چاہیے لیکن چاہیئے“ اور ” ہے میں بڑا فرق ہے۔صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے کہ ” خدا ہے جس نے خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کیا ہو اور زندہ خدا کے ا ساتھ اس کا زندہ تعلق ہو۔وہ ” خدا ہونا چاہیئے“ پر نہیں رہتا۔وہ کہتا ہے خدا موجود ہے۔اب مثلاً راولپنڈی میں ایک احمدی یہ کہ سکتا ہے کہ آج کا خطبہ ایبٹ آباد میں خلیفہ اسیح الثالث نے دیا ہو گا۔اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن کوئی دوسرا آدمی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ بیماری سے اُٹھ کر آئے ہیں۔بعض دفعہ بیمار کو اور بیماریاں لگ جاتی ہیں۔اس لئے انہوں نے خطبہ جمعہ نہیں دیا ہوگا۔پس دونوں کے لئے ایک جیسا امکان ہے۔ایک کہے گا کہ خطبہ دیا ہو گا۔( یہ بات بھی ہونا چاہیے کے درجہ میں آتی ہے ) دوسرا کہے گا کہ نہیں دیا ہو گا لیکن آپ دوست جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں آپ میں سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت صاحب نے خطبہ دیا ہوگا۔آپ کہیں گے حضرت صاحب نے خطبہ دیا ہے۔ہم نے خود اُن کا خطبہ سنا ہے۔