خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 251 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 251

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۱ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء رکھی۔آخر جب نشانے کا پتہ ہی نہ ہو تو نشانہ لگانے میں کوئی دوسرا آدمی تو شریک نہیں ہوسکتا تھا۔جب اس بات کا کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وار کہاں سے آرہا ہے۔تو دوسروں کیلئے اس کے روکنے اور نا کام بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔منافقین کے متعلق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ تھا اس لئے آپ نے خود ہی ان کا مقابلہ کیا۔یہی کہنا پڑے گا اور یہی معقول بات ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے کا فروں کا بھی مقابلہ کیا اور منافقوں کا بھی مقابلہ کیا۔اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی صلوت آپ پر ہمیشہ ہمیش ہوتی رہیں (کسی اور پر نہ اتنی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوئیں اور نہ ہوں گی ) اللہ تعالیٰ کی وہ محبت اور پیار آپ کو حاصل ہوا جو کسی اور آدمی کو حاصل نہیں ہوا اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ محبت اور پیار ہے جو امت مسلمہ چودہ سوسال سے آپ کے لئے مانگتی چلی آرہی ہے اور قیامت تک مانگتی چلی جائے گی۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے ایک عظیم نمونہ ہیں۔آپ کا فروں کے مقابلے میں اکیلے کھڑے ہو گئے۔آپ کے مخلص ساتھی تھے مگر آپ نے اُن کو نہیں بتایا کہ خدا تعالیٰ نے کن کن منافقوں کے متعلق اطلاع دی ہے کہ یہ لوگ منافق ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا ہے۔آپ نے ایک آدھ آدمی کو بتایا اور وہ بھی اس لئے کہ اُس نے آپ کے بعد ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہنا تھا۔اس کو علیحدہ کر کے اور اعتماد میں لے کر اور اس سے وعدہ لے کر کہ وہ آگے اس بات کو عام نہیں کرے گا منافقین کے متعلق بتادیا کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ میری وفات کے بعد منافقین کی ریشہ دوانیاں ہوں گی۔اس لئے کوئی نہ کوئی آدمی تو گواہ رہنا چاہیے تا کہ وہ بوقت ضرورت گائیڈنس دے سکے۔اور امت کو اُن سے متنبہ کر سکے۔جب ایسا شخص ننگا ہو کر باہر آجائے۔( منافق بعض دفعہ ننگا ہو کر سامنے بھی آجاتا ہے ) تو اس وقت لوگوں کو بتا سکے کہ یہ مومن نہیں یہ منافق ہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ منافقین کے خلاف بھی اصل جنگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے لڑی ہے۔پس اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ اور بھی دوگروہ ہیں۔ایک منکرینِ اسلام کا گروہ ہے اور دوسرا منافقین کا گروہ ہے۔منکرین اسلام کے ساتھ ہمارا جو مجادلہ ہے اور ان کو مغلوب