خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 233

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۳ خطبہ جمعہ ۱۹ رمئی ۱۹۷۲ء اُس زمانے میں روپے اور مارک میں تھوڑا سا فرق تھا۔فرض کریں اگر تین سو روپے یومیہ ہو تو بارہ ہزار مہینے کی آمد تھی لیکن جو حریص ڈاکٹر ہے، اس نے یہ ہنر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل کیا مگر خدمت خلق کے جذبہ سے محروم رہنے کی وجہ سے وہ دُنیوی لحاظ سے بھی نا کام ہوا۔یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔میں کہتا ہوں اگر ہمارا احمدی ڈاکٹر خدمت خلق کے جذبہ سے اور پیار کے ساتھ اور اس تڑپ کے ساتھ کہ غریب سے غریب بیمار بھی آئے گا تو میں اُسے بہتر سے بہتر مشورہ دوں گا۔اگر اس طرح وہ کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت ڈال دے گا۔پس اگر آپ کا یہ خلوص، اگر آپ کا یہ جذبہ گذشتہ سال کی نسبت زیادہ اعلیٰ ، زیادہ اچھا اور زیادہ حسین ہو جائے گا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو آپ پہلے سے زیادہ حاصل کریں گے۔میں ڈاکٹروں کے متعلق بات کر رہا تھا۔ہماری حکومت نے اب ڈاکٹروں پر کچھ پابندیاں لگائی ہیں۔ایک احمدی ڈاکٹر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ان پابندیوں کی وجہ سے ہماری کمائی میں کمی واقع ہو جائے گی۔میں نے کہا ٹھیک ہے آپ کی موجودہ ذہنیت کے مطابق کمی ہو جائے گی لیکن اگر آپ اپنی ذہنیت بدل دیں تو زیادتی ہو گی کمی نہیں ہوگی۔ان کو میں نے یہی خدمت خلق کے جذبہ سے کام کرنے والی بات بتائی تو کہنے لگے یہ تو ٹھیک ہے اس سے تو ڈاکٹروں کی آمدنی میں زیادتی ہوگی۔غرض ایک احمدی ڈاکٹر کو کس نے یہ کہا ہے کہ وہ زیادہ نہیں لے۔اُس نے تو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔یہ ہے اس کی اصل فیس یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ اس دُنیا میں بھی مال دے دیتا ہے اور پھر کہتا ہے۔اسے میری راہ میں خرچ کر دو۔پس ہر احمدی ڈاکٹر کو ضمنا میں یہ کہہ دیتا ہوں کہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ غریب سے غریب مریض بھی جسے اس کے طبی مشورہ کی ضرورت ہو ، وہ اس کے طبی مشورہ سے اس لئے محروم نہ رہے کہ اس کی فیس زیادہ ہے۔ہمارے اطباء نے پہلے زمانے میں یہ طریق رکھا ہوا تھا کہ وہ غریب آدمی سے فیس نہیں لیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ جو بہت زیادہ غریب ہوتا تھا اس سے