خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 195

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۵ خطبه جمعه ۲۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء که گذشته سال حقوق العباد کی ادائیگی کے اس حصہ میں ہم نے غفلتیں تو نہیں برتیں اور اس مہم میں ہم پر جو ذمہ داریاں تھیں ہم نے وہ پوری طرح ادا کی ہیں یا نہیں؟ میں نے یہ ایک مثال صرف اس لئے دی ہے تا کہ آپ سمجھ جائیں کہ مالی قربانی یا اپنے رب کے حضور جو ہماری مالی پیشکش ہے وہ تو ہماری کوشش ہے وہ تو ہماری کوشش اور جدو جہد کا ایک بالکل تھوڑا سا حصہ ہے پھر وہ خود مقصود بھی نہیں بلکہ مقصود حقوق العباد کی ادائیگی ہے اور اس کے بہت سے پہلو ہیں۔اس وقت میں نے زیادہ تفصیل کے ساتھ مالی قربانی کے حصہ کو بیان کیا ہے اور آئندہ مجھے توفیق ملی تو دوسری باتوں کولوں گا ( انشاء اللہ تعالیٰ ) اور ان کے متعلق بتاؤں گا مثلاً تعلیم القرآن ہے اس کی جو ذمہ واری ہمارے اوپر ہے جب اس کا محاسبہ کریں گے تو ساری چیزیں سامنے آئیں گی کہ اس ذمہ واری کی ادائیگی میں روکیں کون سی ہیں ، کن اطراف سے ہیں اور ان کو دور کیسے کیا جا سکتا ہے تا کہ ہماری ذمہ داری پوری طرح ادا ہو سکے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح محاسبہ سے یہ بھی علم ہو گا کہ اس کی ادائیگی میں سہولتیں کونسی ہیں؟ آیا وہ سہولت پوری پوری ہمیں میسر آئی ہے یا کچھ مزید میسر آسکتی ہے غرضیکہ درمیان سے روکیں بھی دور ہوں اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے جو سامان ہیں اگر ہم اپنی غفلتوں کے نتیجہ میں ایک حد تک ان سے محروم رہے ہیں تو وہ سامان بھی ہمیں ملنے چاہیں تاکہ تعلیم قرآن جو ایک انسان کا بنیادی حق ہے اس بنیادی حق کو ہم پوری طرح ادا کر سکیں۔میں اگلے مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں جماعت کے سامنے ان باتوں کو رکھوں گا اور اس بارہ میں انہیں نصیحت کروں گا۔اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے۔بہر حال آج کل ہمارے دفاتر کے ایک حصے نظارت بیت المال آمد کو بھی بڑی پریشانی ہے اور باہر کے نظام کو بھی اپنی غفلتوں اور سستیوں کے نتیجہ میں پریشانی اٹھانی پڑی۔میں نے کئی خطوط اپنے دستخطوں سے بھیج کر ان کو یاد دہانی کرائی اور ان پر زور دیا کہ ذمہ داری کو ادا کریں۔نظارت بیت المال نے میرے سامنے یہی سفارش کی تھی کہ سو فیصد وعدے پورے کرنے کے بارہ میں لکھا جائے۔میں نے انہیں یہ کہا تھا کہ میں تو یہ نہیں لکھوں گا بلکہ میں یہ لکھوں گا کہ اپنے وعدوں کو ایک سو دس فیصد پورا کریں۔میں ان دوستوں کو اُس جگہ پر کیوں کھڑا کر دوں