خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 154

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵۴ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء ملے گا۔تمہیں ملنا چاہیے مگر اس کے لئے تمہیں جد و جہد کرنی پڑے گی اور تمہیں جدو جہد کرنی چاہیے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو گیا لیکن ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔اصل بات تو یہ ہے کہ تمہاری توجہ قیامت تک اس خانہ کعبہ کی طرف رہنی چاہیے۔تمہاری نگاہ ہمیشہ اس کی طرف اٹھنی چاہیے تاکہ تمہیں معلوم ہوتا رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ذریعہ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس عظمت اور جلال کا اعلان بنی نوع انسان کے سامنے کیا ہے، آپ اس کے مستحق ہیں کیونکہ آدم کے وقت میں پہلے نبی کے وقت میں جو انسان کی طرف آیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک گھر تیار کروایا اور ہزار ہا سال تک اس کی حفاظت کروائی۔جب آپ کی بعثت کا وقت قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اس کھوئے ہوئے خزانہ کو ڈھونڈیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی وحی کے ذریعہ انہوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ حکم دیا کہ اس کی از سر نو تعمیر کرو کیونکہ جس کی یہ چیز ہے وہ مبعوث ہونے والا ہے۔پس اس دعوئی کے بعد مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ یا بیت اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کے سوا کسی اور کے پاس رہ ہی نہیں سکتا۔اس حقیقت کو جاننے کے بعد وہ مسلمان بڑا ہی ناشکرا ہوگا جو اس کی طرف اپنے وجہ کو نہیں کرتا یعنی اپنی توجہ کو اس طرف نہیں رکھتا اور اپنے اندر یہ احساس نہیں پیدا کرتا کہ ہماری ساری ترقیات کا راز ان مقاصد کے حصول کی کوشش میں ہے جو خانہ کعبہ کے تعلق میں بیان کئے گئے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! خانہ کعبہ کی تعمیر کے جملہ مقاصد حاصل کرنے کی جدو جہد کرتے رہو تا کہ تم پر دشمن کا کسی طور پر بھی الزام نہ آئے نہ ظاہری طور پر کہ خانہ کعبہ تمہارے پاس نہیں اور نہ روحانی طور پر کہ دعویٰ تو کرتے ہو مگر تم اس کے مطابق اپنی زندگیاں نہیں گزارتے اس واسطے تمہارا یہ فرض ہے کہ فولُوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَها تم ہمیشہ اپنی نیست اور مقصد یہ رکھو کہ خانہ کعبہ کے ساتھ جو برکات اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں یا خانہ کعبہ کے جو مقاصد اس نے بیان فرمائے ہیں۔ہم اُن مقاصد کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالیں گے۔