خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 150 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 150

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء زیادہ روشنی افق پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی دیکھی۔اگر چہ اڑھائی ہزار سال بعد میں یہ سورج اپنی ظاہری شکل اور پوری شان میں دنیا پر ظاہر ہونا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی ایک جھلک دکھا دی تھی اور فر ما یا تھا کہ یہ نوراب بہت قریب ہے اتنا قریب ہے کہ گو یا روشنی کے مینار کی طرح نظر آ رہا ہے۔غرض حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا گیا تھا کہ اب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بہت قریب ہے اس لئے یہ مسجد ہے اس کے نشان مٹے ہوئے ہیں تم اسے ٹھیک کر دو میں (اللہ ) نے اسے اپنے حکم کے ماتحت اور اپنی منشاء کے مطابق ایک پاک وجود اور اپنے پیارے محبوب کے لئے بنی آدم کے ذریعہ بنوایا تھا اور اس کے ذرے ذرے پر میری برکات نازل ہو رہی ہیں۔تم اسے از سر نو تعمیر کرو کیونکہ جس کی یہ مسجد ہے اس کو عنقریب دے دی جائے گی۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک تو وہ مسجد ہے جو خدا تعالیٰ نے بنوا کر آپ کو بالکل اسی طرح عطا فرمائی جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو کوئی چیز دیتا ہے یا جس طرح پیار کرنے والا رب اپنے بہت ہی پیارے اور پیار کرنے والے بندے کو عطا فرماتا ہے۔چنانچہ جب آپ کی بعثت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لو مسجد اس میں میری عبادت بجالا ؤ۔آپ کی دوسری مسجد مدینہ کی مسجد تھی جو کہ خود حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنوائی اور تیسری مسجد آپ کے محبوب ترین روحانی فرزند مہدی معہود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے لیکن اس میں نمایاں پہلو تعبیری ہے گو علامت کے طور پر اس مادی دنیا میں مادی ذرائع سے اور ظاہری طور پر اینٹوں اور گارے وغیرہ سے بھی بنی ہے لیکن اصل یہ ہے کہ وہ آخری زمانہ کی مسجد ہے کیونکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب مہدی معہود تمہاری زندگی میں یا جس نسل میں بھی پیدا ہو اور وہ تمہیں ملے تو میری طرف سے اُسے سلام پہنچا دینا اور معنوی طور پر اس میں اپنی تیسری مسجد کا ذکر ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ کہنا کہ تمہاری مسجد کو میں نے اپنی مسجد قرار دے دیا ہے۔یہ بھی پیار کا ایک اظہار ہے۔اس لئے کہ جو کام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیا جانا تھا۔وہی کام آپ کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ لیا جانے والا ہے۔گو اس کام میں