خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۳۱ مارچ ۱۹۷۲ء ہزار ہا سال قبل آپ کے لئے بنوا دی تھی۔دوسری مسجد جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق رکھتی ہے وہ مسجد نبوی ہے اور وہ مدینہ میں ہے۔تیسری مسجد معنوی لحاظ سے دور کے زمانے کی ایک مسجد ہے جسے مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے۔وہ مسجد بھی ہے اور تعبیری معنی میں مسجد کی علامت بھی ہے تاہم اس کا تعبیری پہلو زیادہ نمایاں ہے یعنی اُمت محمدیہ میں سے جس شخص نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کی اور آپ کے عشق میں سب سے زیادہ سوزاں رہا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اُمت محمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے جو بزرگ گزرے ہیں ( جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے جو زندہ جلوے دیکھے ) اُن میں سے جس نے سب سے زیادہ حسین اور سب سے زیادہ احسان سے پر جلوے دیکھے وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا محبوب مہدی معہود ہے جس کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ اور آخری زمانہ ہے۔اس لئے اس کی مسجد کو بھی حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مسجد قرار دیا ہے۔حدیث میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔اس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔پھر کسی وقت مجھے یا کسی اور دوست کو موقع ملا تو وہ بڑی وضاحت کے ساتھ یہ باتیں جماعت کے سامنے رکھ دیں گے یا اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی تو میں بتا دوں گا یہ باتیں ہماری تعلیم ، ہمارے لٹریچر اور کتب سلسلہ میں پائی جاتی ہیں۔بہر حال حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین مسجد میں ہیں۔ایک وہ مسجد ہے جو خدا تعالیٰ نے ہزار ہا سال پہلے بنی نوع انسان سے بنوائی تھی اور پھر اس کی مرمتیں ہوتی رہیں اور جب اسکے نشان مٹ گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ حکم دیا گیا کہ وہ اسے از سر نو تعمیر کریں کیونکہ اب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ قریب ہے اور چونکہ آپ کی عظمت اور آپ کا جلال ایسا ہے کہ اس کا انسانی ذہن احاطہ نہیں کر سکتا اور آپ کا نور اتنا عظیم ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی جب مستقبل کے افق پر نگاہ ڈالی تو انہوں نے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی جھلک کو دیکھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بھی