خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 119

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۹ خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۷۲ء برتنی چاہیے۔اس کام کے ابتدائی حصے مثلاً زمین کو ہموار کرنا ہے اس کے لئے باقاعدگی سے وقار عمل کئے جائیں۔وقار عمل اب اسی کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ویسے بھی ہم وقار عمل کرتے رہے ہیں لیکن اب یہ وقار عمل مجلس صحت کا حصہ بن گیا ہے کیونکہ جب تک ہم ان جگہوں کو اس قابل نہیں بنائیں گے اس وقت تک وہاں کیسے کھیلا جائے گا۔مگر وقار عمل کے لئے سامان کی ضرورت ہے۔مجھے یاد ہے جب ہم نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حکم سے قادیان میں پہلی دفعہ وقار عمل کیا تھا اس وقت خدام الاحمدیہ کے پاس شاید ایک کدال بھی نہیں تھی سب مانگے کا سامان تھا۔دوستوں نے بڑے پیار اور محبت سے ہماری ضرورت کے لحاظ سے اپنے اپنے گھروں میں سے رنبے ، کدال ، گستی اور ٹوکریاں وغیرہ دے دی تھیں لیکن یہ سامان وصول کرنے اور پھر جب وقار عمل ختم ہو جاتا تھا تو واپس کرنے پر ہمارا بڑا وقت لگتا تھا۔مجھے بعض دفعہ ظہر کی نماز تک بیٹھنا پڑتا تھا۔ہر ایک دوست کے گھر اس کا سامان بھیجوانا بڑی ذمہ داری کا کام ہوتا تھا۔ویسے ذہنی طور پر بھی یہ تربیت ہونی چاہیے کہ دوسرے آدمی کے سامان کو ہم نے کسی صورت میں نقصان نہیں پہنچنے دینا۔چنانچہ اسی لئے میں بھی بڑی ذمہ داری محسوس کرتا تھا اور اپنی نگرانی میں ہر ایک کو سامان واپس بھجواتا تھا لیکن جس وقت ہم نے قادیان چھوڑا ہے اس وقت خدام الاحمدیہ کے پاس ۴، ۵ سو کدالیں اور بیلچے تھے۔پانچ سو یا شاید ہزار ٹوکریاں تھیں اور اسی قسم کا دوسرا سامان بھی بہت تھا جس سے ہم کام کرتے تھے۔مگر اس وقت خدام الاحمدیہ کے پاس ۷۵ کدالیں ہیں۔انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق لی ہوئی ہیں لیکن میں انہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس سال ۵۰ کدالیں اور خرید لیں۔اس طرح یہ سوا سو ہو جائیں گی۔مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے پاس پتہ نہیں کوئی کدال ہے یا نہیں۔ان کے پاس بھی ۷۵ کرالیں ہونی چاہئیں۔اس طرح یہ کل دوسو کلا لیں ہو جائیں گی لیکن مجلس صحت کا اندازہ ہے کہ چار سو کدال ہونی چاہیے۔اس لئے کچھ کرالیں ہمارا کالج خریدے، کچھ سکول خریدے اور کچھ جامعہ احمدیہ خریدے۔ان اداروں سے میں یہ نہیں کہتا کہ تم اتنی اتنی کدال خریدو۔وہ خود اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے خریدیں۔تاہم میرا خیال ہے کہ ہمارا کالج ۵۰ کدالیں آسانی سے خرید سکتا ہے لیکن بہر حال یہ میرا خیال ہے۔وہ خود اپنا