خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 112 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 112

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۲ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء نگاہ میں بدترین ملزم قرار دیا ہے اُس سے تم ہاں تم کیسے خیر کی امید رکھتے ہو؟ محمد حسن چیمہ نے بھی کہا تھا کہ بس ڈرنا نہیں خلافت پر حملہ کر دو اور اس کو تو ڑ کر رکھ دو۔اب اُنہوں نے بھی یہی کہا ہے چنا نچہ لکھا ہے :۔”میرے بہادر و اور باہمت ساتھیو! ملوکیت کے قلعے میں شگاف پڑ چکا ہے صرف ایک مضبوط دھکے کی ضرورت ہے اُٹھئے اور آگے بڑھئے اور ہامانیت ( یعنی خلافت احمدیہ ) کے ضمیر فروش ایجنٹوں کے گریبانوں کو مضبوط ہاتھوں سے پکڑ کر ثابت کر دیجئے کہ ہامان اب زیادہ دیر تک مذہبی جبہ میں چھپ کر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔اٹھو اور ہمت کرو آگے بڑھو اور ملوکیت کے تخت کو لات مار کر پرے پھینک دو۔“ جس خلافت کے گرد خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت پہرہ دے رہی ہے اس خلافت کے قلعے پر تو تمہاری لات اگر پڑے گی تو تمہاری ہڈیاں بھی اس طرح چور چور ہو جائیں گی کہ اُن کے ذرے بھی دُنیا کو نظر نہیں آئیں گے۔اور پھر اس کے بعد اس نقاب پوش انقلابی نے ہمیں یہ اطلاع دی :۔عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ محترمہ رابعہ انقلابی صاحبہ ۱۵ مارچ کو بروز بدھ ۴ بجے شام گول بازار میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عوام سے خطاب کریں گی ( یعنی ان عوام سے جو اس قسم کے افعال کی آماجگاہ ہیں ) ہر محنت کش کا فرض ہے کہ وہ ہر خاص و عام کو مطلع کر دے“ اب یہ پندرہ مارچ کی تاریخ تو آنے والی ہے ایک برقعہ پوش منافق چھپ کر وار کرنے والا ایک تو یہ بھی کر سکتا ہے اور ممکن ہے وہ یہ بھی کرے کہ وہ خفیہ طور پر میری ذات پر وار کرے اور مجھے قتل کرنے کی کوشش کرے دوسرے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُس وقت جب کہ امت مسلمہ مومنہ کے دلوں پر ایک اثر طاری ہوتا ہے اور اُن کے دل خدا تعالیٰ کی طرف جھکے ہوتے ہیں اس وقت سے فائدہ اُٹھا کر گول بازار میں آکر دو چار فقرے کہہ دے اور پھر واپس جا کر بڑی بڑھیں مارے کہ ہم نے اپنے وعدہ کے مطابق وہاں بازار میں تقریریں کیں۔غرض یہ بھی ممکن ہے لیکن جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں موت سے نہ کبھی ڈرا ہوں