خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 102 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 102

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۰۲ خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء دعا میں برکت ڈالی ، اس لئے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور میرے دل میں یہ شوق پیدا ہوتا ہے کہ میں آپ کو خط لکھوں۔میں خط لکھ دیتا ہوں مگر آپ کو اس کا جواب دینے کی تو کوئی ضرورت نہیں ہے۔میں تو اپنی محبت کا اظہار کرتا ہوں۔میں نے دفتر سے کہا کہ اسے کہنے دو جو یہ کہتا ہے۔اس کے خط کا جواب ضرور جائے گا کیونکہ اگر خدا کی قدرت کا نظارہ دیکھ کر اس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے تو ہمارے دل میں تو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔پس یاد رکھو کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو الہی سلسلہ کے خلفاء بنا یا کرے۔پنجم۔ایک یہ اعتراض ہے جو پانچ دس آدمی جن کا ہمیں علم ہوا ہے بڑے زور وشور کے ساتھ کر رہے ہیں کہ جو خلافت کمیٹی خلیفہ کے انتخاب کے لئے ۱۹۵۶ء میں بنائی گئی تھی اس کو فوراً تو ڑ دو۔ورنہ ہم جماعت احمدیہ میں ایک عظیم انقلاب بپا کر دیں گے۔کہتے ہیں کہ ہمارا ادارہ ، یعنی ادارہ منافقین ”اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ خلافت کمیٹی جیسا غیر جمہوری ادارہ قائم ہی اس مقصد کے لئے کیا گیا تھا ( یعنی ۱۹۵۶ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس مقصد کے لئے قائم کیا تھا ) کہ خلافت خاندانِ مقدسہ سے باہر کسی صورت نہ جا سکے اور خلافت کمیٹی کی منطق پر (خلافت ثانیہ پر جو تنقید ہو رہی ہے اس کے الفاظ بھی ذرا ملا حظہ کریں ) مذہب کی خوبصورت چھاپ چڑھا کر پوری کی پوری جماعت کو ہمیشہ کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا گیا ہے۔“ زنجیروں میں تو جماعت کو جکڑا گیا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ زنجیریں غلامی کی نہیں۔یہ محبت اور پیار کی زنجیریں ہیں اور دونوں طرف سے جکڑے ہوئے ہیں میں بھی جکڑا ہوا ہوں اور آپ بھی جکڑے ہوئے ہیں۔باہمی پیار اور محبت میں آپ بھی جکڑے ہوئے تھے اور حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ بھی جکڑے ہوئے تھے۔آپ میں سے ہر ایک کو کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی تکلیف ہوتی ہے مثلاً زید کو تکلیف ہوئی بکر کو بھی ہوگی۔شمال میں تکلیف ہو گی جنوب میں ہوگی