خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 100
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۰ ؍ مارچ ۱۹۷۲ء میں تیرے ساتھ کھڑا ہوں۔تجھے کیا فکر ہے جو چیز تو سوچ بھی نہیں سکے گا، وہ میں تجھے دے دوں گا۔اگر میں شروع میں اپنے دماغ سے کوئی منصوبہ بناتا تو میں یہ ۴۱ فیصد کا اضافہ کبھی نہ کرسکتا کیونکہ مجھے اپنی کمزوریاں سامنے نظر آتی ہیں۔میں کہتا کہ پانچ فیصد کافی ہے تو اس طرح چھ سال میں زیادہ سے زیادہ ۳۰ فیصد کا اضافہ بنتا۔پھر میں اس میں سے بھی نکالتا کہ شاید یہ ہو جائے ، شاید وہ ہو جائے۔مثلاً زیادہ چندہ دینے والے فوت ہو جائیں۔اُن کی جائیدادیں تقسیم ہو جائیں۔اُن کے بچے مخلص نہ رہیں۔غرض میں ہزار باتیں سوچتا اور میں کبھی یہ اعلان کرنے کی جرات نہ کرتا کہ میں نے اپنی عقل اور مہارت سے یہ طے پایا ہے کہ آئندہ پانچ چھ سال میں انجمن کے چندے۴۱ فیصد زیادہ ہو جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے کام لینا ہے۔تجھے ضرورت کا پتہ نہیں ہو گا۔تجھے ضرورت کے لئے جتنی رقم چاہیے۔اس کا بھی پتہ نہیں ہوگا۔میں اس کا سامان کروں گا۔علاوہ ازیں اس تھوڑے سے عرصہ میں جماعت نے فضل عمر فاؤنڈیشن کے سلسلہ میں بہت بڑی مالی قربانی دی ہے پھر آگے بڑھوں کی سکیم ہے۔اس میں بھی جماعت نے بہت بڑی قربانی پیش کی ہے۔یہ جو نصرت جہاں ریز روفنڈ ہے یہ خالی رقم ہی نہیں بلکہ اس کے استعمال میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی ہے اور یہی اصل الہی نصرت اور برکت ہے۔پہلے بھی میں نے شاید بتایا تھا کہ ہم نے مغربی افریقہ کے کچھ ممالک میں طبی امدادی مرا کز کھولے ہیں۔ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا مگر جتنا سرمایہ اُن کے اوپر لگایا گیا ہے۔ایک سال کے اندراندر اس سے ڈیڑھ سو گنا زیادہ آمد ہوئی ہے۔یہ رقم باہر نہیں بھجوائی جا سکتی اور نہ ہماری کہیں باہر لے جانے کی نیت ہے۔وہ وہیں خرچ ہوتی ہے۔اس سے آپ کے کاموں میں تیزی پیدا ہوتی ہے۔غرض ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا لیکن ہم نے جتنا سرمایہ خرچ کیا تھا اس سے ڈیڑھ سو گنا زیادہ آمد ہوئی ہے یعنی اتنی نصرت ہوئی ہے کہ سو کے اڑھائی سو بن گئے ہیں۔اب یہ برکت میں نے ڈالی ہے؟ نہیں! یہ برکت اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے۔یہ جو منافق باتیں کرتے ہیں کیا ان کی بزرگی کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے برکت دی ہے؟ نہیں! ان کو تو