خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 66
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۶ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء فوج تھی۔اسی طرح ترکی کی طرف سے مسلمان پولینڈ تک چلے گئے۔چنانچہ اس دور میں جب فرغت کے ساتھ ساتھ فانصب پر بھی عمل ہو رہا تھا۔ہر وہ طاقت جس نے مسلمانوں سے ٹکر لی نا کام ہوئی اور ہر وہ دشمن جس نے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی ہلاک ہو گیا۔پھر مسلمانوں پر ایک وقت ایسا آیا کہ جب انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب ساری دنیا ہمیں مل گئی۔ہم نے اجتماعی زندگی میں جو کام کرنا تھا وہ کر لیا اس لئے اب ہمیں قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں رہی حالانکہ یہ نہیں سوچا کہ امت محمدیہ کی اجتماعی زندگی تو قیامت تک ممتد ہے۔قیامت سے پہلے تو اُمت محمدیہ کی اجتماعی زندگی ختم نہیں ہوتی۔اس واسطے اُمت محمدیہ کی اجتماعی زندگی میں کوئی ایسا مقام نہیں جب انسان یہ سمجھے کہ فَإِذَا فَرَغْت پر پورا اترنے کے بعد فَانْصَب کا حکم نہیں رہا بلکہ اس آیت کی رو سے قیامت تک ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہوگا۔ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو قربانیاں دینی پڑیں گی۔بہر حال جب بھی مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے اپنے دور میں قربانیوں کے ہر جزو کو مکمل کر دیا۔اب انہیں مزید قربانیاں دینے کی کیا ضرورت ہے تو وہ ہلاک ہو گئے مگر یہ ہلاکت دنیوی طور پر ہے روحانی لحاظ سے اس لئے نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ فیج اعوج کے زمانہ میں بھی اُمت محمدیہ میں اولیاء اس کثرت سے تھے کہ جس طرح سمندر میں پانی کے قطرے ہوتے ہیں لیکن وہ امت محمدیہ کے کچھ فرد تھے یا وہ کچھ حصے تھے یا وہ کچھ ٹولیاں تھیں۔ساری اُمت محمدیہ تو ایسی نہیں تھی جس طرح چراغ سے چراغ جلتے ہیں اور تھوڑی سی جگہ کو روشن کر دیتے ہیں یہی اُن کا حال تھا مگر ساری اُمت یا ساری قوم پر جو ذمہ داری تھی اس سے صرف پاکستان کے مسلمان یا افریقہ کے مسلمان یا مصر کے مسلمان یا عراق کے مسلمان یا عرب کے مسلمان یا شام کے مسلمان یا ایران وغیرہ کے مسلمان مراد نہیں بلکہ ساری اُمت پر جو ذمہ داریاں عاید ہوتی تھیں انہیں نباہا نہیں گیا چنانچہ اسلامی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی ہمیں نظر آتا ہے کہ جب مسلمانوں نے فَإِذَا فَرَغْت کے بعد فانصب کا خیال نہیں رکھا۔جب ایک دور ختم ہوا