خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 54
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء تھا۔صبح سات بجے ہتھیار ڈال دیئے اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آئی ؟ قرآن کریم کی واضح تعلیم کے خلاف ہے۔پس ہم جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم قرآن کریم کو سمجھتے ہیں، ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ انتہائی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد ملا کرتی ہے۔یہ سمجھنا کہ تمہارے مخالف اور اسلام کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ جلد تباہ کر دے گا فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ کی رو سے صحیح نہیں۔اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم ایسا تصور بھی نہ کریں اور نہ ایسی دعائیں کریں۔ہمیں تو یہ دعائیں کرنی چاہئیں کہ اے خدا! ہمیں یہ توفیق عطا فرما کہ ہم تیری راہ میں اور تیرے دین کو غالب کرنے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ساری دُنیا کے دل میں بٹھانے کے لئے انتہائی قربانیاں پیش کریں اور ہمیں یہ توفیق بھی عطا فرما کہ تیرے علم کامل میں جو عصر کا وقت ہے یعنی انتہائی قربانیوں کا وقت ہے وہ ہمیں نصیب ہو۔ہم رستے میں کٹ نہ جائیں ہم تیرے دشمن کے ہاتھ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔اے خدا! ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم تیری توفیق سے عصر کے وقت تک تیری راہ میں انتہائی قربانیاں دیتے رہیں گے تو تیری مدد ہمیں ضرور ملے گی چنانچہ جب ظاہری حالات دو میں زبان سے بے اختیار مَتى نَصْرُ اللہ نکلے گا تو اسی وقت ہمیں پتہ لگے گا کہ الا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قريب (البقرة : ۲۱۵) یعنی اللہ تعالیٰ کی مددمل جائے گی۔ہم دشمن کے لئے بددعائیں کیوں کریں کیونکہ ہماری کامیابی میں اس کی ہلاکت ہے اس کی دشمنی کا خاتمہ ہے خواہ وہ جسمانی لحاظ سے مارا گیا ہو یا دنیوی طور پر وہ اپنے اس منصوبہ میں ناکام ہو گیا ہو کہ وہ اسلام کو مٹا دے گا۔بعض انبیاء علیہم السلام کی قو میں پہلے بھی (یا تو ان کا کثیر حصہ اور یا بعض مثالوں میں ساری کی ساری) ہلاک ہوگئیں یا نا کام ہو گئیں یعنی جب کا فرنہ رہے تو قوم گو یا ہلاک ہوگئی۔وہ قوم جو نبی کی دشمن تھی وہ قوم نہیں رہی کیونکہ وہ اسلام لے آئی۔اس لئے وہ قوم کہاں رہی جس نے کہا تھا کہ ہم نبی کو مٹادیں گے۔غرض یہ بھی ناکامی اور ہلاکت کی ایک شکل ہے جب کسی قوم یا فرد کا منصوبہ نا کام اور مقصد فوت ہو جاتا ہے تو یہ بھی اس کی ایک قسم کی ہلاکت ہے پس ہمیں اپنے دشمن کی جلد ہلاکت کی دعا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ دعا کرنے کی ضرورت ہے کہ اے خدا! تو ہمیں انتہائی قربانیاں ۱