خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 49
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۷۲ء یرموک کی جنگ کو لیں۔یہ پانچ دن کی جنگ ہوئی ہے اور خدا کی شان یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید کوطفیل محمد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتادیا گیا تھا کہ چار دن تک آزمائشوں کا دور ہو گا یعنی ان کے ذہن میں پہلے سے یہ تصور موجود تھا کہ چار دن دشمن کے اور پانچواں دن ہمارا ہوگا یعنی تین پہر دشمنوں کے ہوں گے اور چوتھا پہر ہمارا ہو گا چنانچہ دشمن اپنے وزن ، اپنی تعداد اور اپنے ہتھیاروں کے زور کے ساتھ مسلمانوں کو دھکیلتے ہوئے ان کے خیموں تک لے جاتا تھا۔مسلمانوں کی یہ حالت دیکھ کر ایثار پیشہ فدائی مسلمان عورتیں خیموں کے ڈنڈے لے کر مسلمانوں کے سر پر مارتی تھیں کہ واپس جاؤ۔یہاں کیا لینے آئے ہو چنانچہ اگلے دن اور پھر اس سے اگلے دو دن بھی یہی حال ہوا۔اس معرکے میں کئی مسلمان شہید ہو گئے جن میں عکرمہ اور اس کے ساتھی بھی شامل تھے مگر کسی مسلمان نے پیٹھ نہیں دکھائی حتی کہ عکرمہ جیسے شخص نے پیٹھ نہیں دکھائی جو فتح مکہ تک اسلام کا دشمن رہا تھا کیونکہ عکرمہ اور اس جیسے دوسرے مسلمانوں کے دل بدل گئے۔حالات مختلف ہو گئے۔اندھیروں کی جگہ نور نے لے لی۔وہ جو اسلام کے دشمن تھے ان کے دل میں محبت پیدا ہو چکی تھی۔عکرمہ اور اس کے ساتھی اس خیال سے جلتے تھے کہ اُنہوں نے اپنے چہروں پر اسلام دشمنی کے داغ لگا رکھے ہیں۔ان داغوں کو دھونے کے لئے خدا جانے ہمیں کوئی موقع ملتا ہے یا نہیں۔پس یہ لوگ بھی جو بعد میں آنے والے تھے ، دشمن کے مقابلے میں بھاگے نہیں۔کسی نے بزدلی نہیں دکھائی۔وہ خدا تعالیٰ سے نا امید نہیں ہوئے۔اُنہوں نے اللہ تعالیٰ پر بدظنی نہیں کی بلکہ کئی ایک نے اپنی جان دے کر مَنْ قَضَى نَحْبَةُ (الاحزاب: ۲۴) خدا تعالیٰ سے اپنا عہد پورا کر دیا اور اس طرح اُنہوں نے اپنے لئے جنتوں کے سامان پیدا کئے اور پیچھے رہنے والوں کے لئے فتح کے سامان پیدا کر دیئے۔غرض اس جنگ میں جب مسلمانوں کا کرب اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور تمثیلی زبان میں وہ آخری وقت یعنی عصر کا وقت آگیا تو کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت یرموک کے میدان میں رومی اپنے پیچھے شاید ڈیڑھ لاکھ لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے حالانکہ پہلے چار دنوں میں رومی یہ سمجھتے تھے کہ